Pakistan
آزاد کشمیر انتخابات: مسلم لیگ ن آگے، پیپلز پارٹی کی جانب سے دھاندلی کا الزام
آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے کے غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کو واضح برتری حاصل ہو گئی ہے۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے انتخابی عمل میں مبینہ دھاندلی اور تشدد کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔
راولپنڈی اور مظفرآباد سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے کے غیر حتمی نتائج میں پاکستان مسلم لیگ ن کو نمایاں برتری حاصل ہو گئی ہے۔ اتوار کی دیر رات تک موصول ہونے والے نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن نے مہاجر نشستوں اور متعدد علاقائی حلقوں میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق پانچ مہاجر حلقوں کے سرکاری نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے جن میں سے چار نشستوں پر مسلم لیگ ن جبکہ ایک پر پیپلز پارٹی کامیاب رہی ہے۔ غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ مسلم لیگ ن نے مجموعی طور پر مہاجر نشستوں پر بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ انتخابی عمل کے دوران خراب موسم اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے کچھ حلقوں میں پولنگ کا عمل تاخیر کا شکار بھی ہوا جس کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے پولنگ کے وقت میں ایک گھنٹے کی توسیع کی۔
انتخابی عمل کے دوران مظفرآباد کے مختلف علاقوں میں کشیدگی اور سیاسی کارکنوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں ہیں۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں ماحول وقتی طور پر کشیدہ ہو گیا اور پیپلز پارٹی نے الزام عائد کیا کہ ان کا ایک کارکن جھڑپوں کے دوران جاں بحق ہو گیا ہے۔ تاہم دوسری جانب مسلم لیگ ن نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ شخص کی موت دل کا دورہ پڑنے سے واقع ہوئی۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور امیدواروں نے سیکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھائے اور الیکشن کمیشن کو تحریری شکایت بھیجی جس میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں اور مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔
انتخابی نتائج کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ عوام نے ان کی کارکردگی پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے اور وہ بھاری اکثریت کے ساتھ حکومت سازی کی پوزیشن میں ہیں۔ ادھر پیپلز پارٹی کی قیادت نے انتخابی نتائج کے بعد نتائج پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ تمام حقائق سامنے آ سکیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے تمام حلقوں کے حتمی اور سرکاری نتائج کا اعلان قانونی کارروائی اور تمام رسمی کارروائیوں کی تکمیل کے بعد کیا جائے گا جبکہ غیر حتمی نتائج کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔