LIVE
Loading Breaking News...

محسن نقوی کی نئے صوبوں کی تجویز پر حکومت کے اندر سے مخالفت سامنے آ گئی

News Image
وفاقی وزراء اور سیاسی رہنماؤں نے محسن نقوی کی طرف سے نئے صوبوں کے قیام اور انتظامی ڈھانچے کی تبدیلی کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اسے آئین کی پاسداری اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کی ضرورت قرار دیا ہے۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش مسائل کی اصل وجہ موجودہ اکائیاں نہیں بلکہ آئینی اصولوں پر عمل نہ کرنا ہے۔
اسلام آباد: وفاقی کابینہ کے اہم اراکین اور حکومتی اتحادی رہنماؤں نے وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ملک کے انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کرنے اور نئے صوبے بنانے کی تجویز پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو درپیش انتظامی ناکامیوں کی اصل وجہ موجودہ وفاقی اکائیاں نہیں ہیں، بلکہ آئین کی خلاف ورزیاں ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو نئے صوبے بنانے کے بجائے سب سے پہلے نیشنل ایکشن پلان پر سختی سے عمل درآمد کرنا چاہیے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں محسن نقوی کے خیالات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر نظام کو مضبوط بنانا ہے تو اس کا درست فورم پارلیمنٹ یا وفاقی کابینہ ہے، جہاں تمام متعلقہ امور پر آئینی طریقے سے بحث کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ محسن نقوی اپنی وزارت کے ذریعے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کا آغاز کریں اور ساتھ ہی پاکستان کرکٹ بورڈ میں بھی انقلابی اصلاحات لے کر آئیں۔ دوسری جانب، پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے بھی نئے صوبے بنانے کی تجویز کی شدید مخالفت کی۔ انہوں نے اپنے ایک تفصیلی بیان میں کہا کہ انتظامی حدود کو تبدیل کرنے سے ملک کے گہرے نظامی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ملک میں حکمرانی کا بحران صوبائی خودمختاری کے سلب ہونے اور جمہوری اداروں کے کمزور ہونے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، نہ کہ موجودہ صوبائی ڈھانچے کی خرابی کی وجہ سے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کا واحد راستہ 1973 کے آئین کی مکمل بالادستی، قانون کی حکمرانی اور صوبائی خودمختاری کو یقینی بنانا ہے۔ وفاقی وزراء اور سیاسی حلقوں کی طرف سے سامنے آنے والے اس ردعمل کے بعد ملک میں انتظامی ڈھانچے اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں ایک طرف انتظامی بہتری کی باتیں کی جا رہی ہیں تو دوسری طرف آئینی تسلسل اور صوبائی خودمختاری کے تحفظ پر زور دیا جا رہا ہے۔