Pakistan
کراچی میں آئی بی اے کے سابق طالب علم کی پراسرار موت کی تفتیش
کراچی میں آئی بی اے کے سابق طالب علم میر رضا علی خان کی پراسرار موت کے معاملے میں تفتیش جاری ہے جہاں پولیس کو خودکشی کے شواہد کے باوجود اہم تضادات کا سامنا ہے۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی اس سنسنی خیز معاملے کو حل کر لیں گے۔
کراچی میں آئی بی اے کے سابق طالب علم اور ابھرتے ہوئے کاروباری شخص میر رضا علی خان کی پراسرار موت کے معاملے میں پولیس تفتیش تیزی سے جاری ہے۔ اگرچہ ابتدائی طور پر سامنے آنے والے شواہد اور حالات خودکشی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، تاہم تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ موقع سے آلۂ قتل (پستول) کا غائب ہونا اور فارنزک رپورٹس میں موجود تضادات نے اس کیس کو ایک پیچیدہ معمہ بنا دیا ہے۔ پولیس حکام کا عزم ہے کہ اس کیس کو بہت کم وقت میں کامیابی کے ساتھ حل کر لیا جائے گا۔ پچیس سالہ رضا علی خان کی لاش گلستان جوہر میں شاہی قلعہ کے قریب واقع جھاڑیوں سے دو دن بعد ملی تھی، جن کے سینے پر گولی کا نشان تھا۔ ان کے گھر والوں کے مطابق وہ پی ای سی ایچ ایس کے اپنے گھر سے مبینہ طور پر اغوا ہوئے تھے۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش سے پتہ چلتا ہے کہ متوفی اپنے کاروبار میں لاکھوں روپے کے نقصان کا سامنا کر رہا تھا اور اس نے مختلف لوگوں سے سرمایہ کاری لے رکھی تھی جسے واپس کرنے کا دباؤ تھا۔
تفتیش کاروں نے مقتول کی آخری نقل و حرکت کا سراغ لگایا ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ واقعے کی رات وہ بہادر آباد چورنگی پر اپنی دکان بند کرنے کے بعد گھر پہنچے، اور پھر دوبارہ دکان سے پستول لے کر اپنی کار میں واپس آئے۔ انہوں نے گھر کی اور کار کی چابیاں، گھڑی اور کچھ نقدی اپنی والدہ کے لیے گھر پر ہی چھوڑ دی۔ اس دوران انہوں نے اپنے آئی فون سے تمام ڈیٹا بھی ڈیلیٹ کر دیا۔ بعد ازاں انہوں نے ایک آن لائن ٹیکسی کی مدد سے سفر کیا اور ڈرائیور کو مبینہ طور پر ڈبل کرایہ ادا کیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں انہیں گلستان جوہر کے علاقے میں اکیلے گھومتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جہاں ان کا موبائل فون مبینہ طور پر کوئی اور شخص اٹھا کر لے گیا تھا جسے بعد میں پولیس نے ٹریس کر کے تحویل میں لے لیا۔
پولیس کے سامنے چند ایسے سوالات بھی ہیں جنہوں نے تفتیش کاروں کو الجھا رکھا ہے۔ پہلا یہ کہ انہوں نے خاص طور پر اسی مقام کا انتخاب کیوں کیا؟ دوسرا یہ کہ ان کا پستول تاحال برآمد نہیں ہو سکا, جبکہ پستول کا ہولسٹر ایک درخت کے ساتھ لٹکا ہوا ملا۔ تیسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ ڈاکٹروں کے مطابق گولی قریب سے ماری گئی تھی لیکن متوفی کے ہاتھوں پر گن شاٹ ریزیڈیو (بارود کے ذرات) نہیں پائے گئے، جو عام طور پر قریب سے خودکشی کرنے والے شخص کے ہاتھوں پر موجود ہوتے ہیں۔ تاہم پولیس کا ماننا ہے کہ لاش جزوی طور پر خراب ہونے کی وجہ سے یہ ذرات شاید ظاہر نہ ہو سکے۔
سینئر پولیس افسران کی نگرانی میں تفتیشی ٹیمیں متوفی کے کال ریکارڈ ڈیٹا (સીઆરડી)، دوستوں اور خاندانی پس منظر کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہیں۔ اس کے علاوہ دستیاب تمام سی سی ٹی وی فوٹیجز کو بھی کھنگالا جا رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ تمام زاویوں سے تحقیقات کر رہے ہیں اور جلد ہی اس واقعے کی اصل حقیقت منظر عام پر لائی جائے گی تاکہ لواحقین کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔