Pakistan
ایم کیو ایم پاکستان بہادر آباد مرکز میں ہنگامہ اور تصادم، چار زخمی
کراچی کے علاقے بہادر آباد میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکز پر دو مختلف گروپوں کے درمیان ہونے والے تصادم کے نتیجے میں کم از کم چار افراد زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورتحال پر قابو پا لیا اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی مزید روک تھام کے لیے نفری تعینات رکھی گئی۔
کراچی کے علاقے بہادر آباد میں واقع متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پی) کے عارضی مرکز پر اتوار کی شام ایک اہم اجلاس کے دوران شدید ہنگامہ آرائی اور دو گروپوں کے درمیان تصادم دیکھنے میں آیا۔ پارٹی ذرائع اور پولیس کے مطابق اس ناخوشگوار واقعے کے نتیجے میں کم از کم چار افراد زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ تصادم کے باعث علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور کشیدگی کی فضا پیدا ہو گئی۔پولیس حکام نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اتوار کی شام بہادر آباد میں چار مینار کے قریب واقع ایم کیو ایم پاکستان کے دفتر میں پارٹی کا ایک اجلاس جاری تھا جس میں مرکزی قیادت موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام اور ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے روانہ ہونے کے بعد پارٹی کے اندر موجود دو مختلف دھڑوں کے کارکنان کے درمیان کسی بات پر تلخ کلامی ہو گئی جو دیکھتے ہی دیکھتے شدید ہاتھ پائی اور تصادم میں بدل گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک گروپ کے حامیوں نے دوسرے گروپ کے ارکان پر مبینہ طور پر تشدد کیا اور انہیں زبردستی دفتر سے باہر نکال دیا۔بعد ازاں جھگڑے کے دوران پارٹی مرکز کے اندر سے فائرنگ کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں جس سے وہاں موجود افراد میں بھگدڑ مچ گئی۔ فائرنگ کے نتیجے میں چالیس سالہ عامر علی نامی شخص گولی لگنے سے زخمی ہو گیا جبکہ ڈنڈوں اور پتھروں کے وار سے تین دیگر افراد بھی زخمی ہوئے۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے تصدیق کی کہ زخمیوں کو عباسی شہید اسپتال لایا گیا جہاں گولی سے زخمی ہونے والے شخص کو ابتدائی طبی امداد کے بعد نجی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کو کنٹرول کیا اور نیو ٹاؤن تھانے کی حدود میں امن و امان کی بحالی کے لیے پہرہ دیا۔واقعے کے بعد پارٹی کے سینئر رہنما بشمول فاروق ستار، علی خورشیدی اور امین الحق بھی موقع پر پہنچے اور کارکنان کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔ رات گئے تمام رہنما دفتر سے روانہ ہو گئے اور کارکنان بھی پرامن طور پر منتشر ہو گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے سلسلے میں تاحال کسی فریق کی جانب سے تھانے میں کوئی باضابطہ شکایت درج نہیں کروائی گئی ہے اور نہ ہی کسی کی گرفتاری عمل میں آئی ہے، تاہم پولیس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔دوسری جانب اس واقعے پر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ جو لوگ سندھ کو تقسیم کرنے کے خواب دیکھتے تھے وہ آج اپنے ہی گھر کو سنبھالنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نفرت کی سیاست کرنے والوں کو عوام کی طرف سے ایک بار پھر واضح پیغام مل گیا ہے اور سندھ ہمیشہ کی طرح متحد ہے۔