Pakistan
سورنگی کوئلہ کان حادثہ: بلوچستان حکومت کا اعلیٰ سطح انکوائری کا فیصلہ
بلوچستان حکومت نے سورنگی میں کوئلہ کان کے دلخراش حادثے کی تحقیقات کے لیے وزیر اعلیٰ انسپکشن ٹیم کو ٹاسک سونپ دیا ہے جس میں 34 کان کن جاں بحق ہوئے تھے۔ واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کرنے اور غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروائی کے لیے دو ہفتوں میں رپورٹ طلب کی گئی ہے۔
بلوچستان کی صوبائی حکومت نے سورنگی کے علاقے میں پیش آنے والے اس دلخراش کوئلہ کان حادثے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم دے دیا ہے جس میں چوبیستی سے زائد غریب کان کن اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اس المناک واقعے کے اسباب کا تعین کرنے اور غفلت برتنے والے ذمہ داروں کی نشاندہی کے لیے تحقیقات کا ذمہ وزیر اعلیٰ انسپکشن ٹیم (سی ایم آئی ٹی) کو سونپ دیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے سی ایم آئی ٹی کے چیئرمین بشیر احمد بنگلزئی کی سربراہی میں ایک ٹیم جائے وقوعہ کا دورہ کرے گی اور حادثے کے حقائق کو بے نقاب کرے گی۔ جاری کردہ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق تحقیقاتی ٹیم کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی مفصل رپورٹ اور تجاویز دو ہفتوں کے اندر وزیر اعلیٰ کو پیش کرے تا کہ آئندہ ایسے حادثات سے بچاؤ کے لیے موثر اقدامات کیے جا سکیں۔ دوسری جانب، محکمہ مائنز اینڈ منرلز نے بھی اس سانحے پر ایک الگ محکمہ جاتی انکوائری کا آغاز کر دیا ہے اور تحقیقات کے سلسلے میں متعلقہ حکام نے چار کوئلہ کانوں کو سیل کر دیا ہے جن میں وہ دو کانیں بھی شامل ہیں جو براہ راست اس حادثے سے متاثر ہوئی تھیں۔ یاد رہے کہ سورنگی کا یہ حادثہ بلوچستان کی تاریخ کے بدترین کان کنی کے حادثات میں سے ایک ہے جہاں تین سے چار ہزار فٹ گہرائی میں پھنس جانے کے باعث 34 کان کن جاں بحق ہو گئے تھے۔ چیف انسپکٹر آف مائنز محمد عاطف کے مطابق تمام جاں بحق ہونے والے کان کن خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔ شانگلہ کوئلہ کان ورکرز ایسوسی ایشن کے صدر عابد یار نے بتایا کہ پیر آباد کے علاقے میان کلے سے تعلق رکھنے والے تئیس افراد اس حادثے کا شکار بنے جن کی عمریں سترہ سے پچیس سال کے درمیان تھیں۔ اس سانحے کے بعد ایک بار پھر صوبے میں کان کنوں کے لیے حفاظتی معیارات، ریگولیٹری نگرانی اور ایس او پیز پر عمل درآمد کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ انکوائری کے نتائج سے ذمہ داروں کا تعین کرنے اور کان کنوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مستقبل کی پالیسیوں کی تشکیل میں مدد ملے گی۔