LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں مہنگائی کی شرح جولائی 2026ء میں 9.2 فیصد تک پہنچ گئی

News Image
ادارہ شماریات کے مطابق پاکستان میں جولائی 2026ء میں مہنگائی کی شرح 9.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس دوران خوراک کی قیمتوں میں اضافے نے شارٹ ٹرم مہنگائی کو اوپر دھکیل دیا ہے۔
اسلام آباد (نیکسورا نیوز اردو) پاکستان میں مہنگائی کی صورتحال کے حوالے سے تازہ ترین اعداد و شمار سامنے آ گئے ہیں جن کے مطابق جولائی 2026ء کے دوران ملک میں مجموعی مہنگائی کی شرح 9.2 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ معاشی ماہرین اور کاروباری جریدے بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں تیزی سے ہونے والا اضافہ ہے جس نے شارٹ ٹرم مہنگائی کو نو فیصد سے زائد کی سطح پر لا کھڑا کیا ہے۔ دوسری جانب ڈان اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گندم کی قیمتوں میں قدرے کمی دیکھی گئی ہے جس کی بنیادی وجہ ایران کے ساتھ ممکنہ تجارتی معاہدوں کی امیدیں ہیں۔ اس پیشرفت سے غلہ کی منڈی میں کچھ بہتری کی توقع کی جا رہی ہے تاہم ملک میں مجموعی معاشی بحالی کا عمل تاحال انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون نے بھی اپنی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ معیشت کی رفتار سست ہے اور ریکوری کے راستے میں کئی اندرونی و بیرونی چیلنجز حائل ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ پاکستان کے معاشی آؤٹ لک کو تاحال بعض اہم خطرات لاحق ہیں۔ پاکستان ٹوڈے کے مطابق فنانس منسٹری کا ماننا ہے کہ اگرچہ مہنگائی کے دباؤ کو قابو میں رکھنے کے لیے اقدامات جاری ہیں، لیکن عالمی منڈی کے حالات اور ملکی مالیاتی اہداف کے حصول کے لیے سخت پالیسیوں پر عملدرآمد جاری رکھنا ہوگا۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عام آدمی کو مہنگائی کے اس بوجھ سے ریلیف دلانے کے لیے زرعی شعبے میں بہتری اور سپلائی چین کے نظام کو درست کرنا ناگزیر ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ خوراک کی بنیادی اشیا کی قیمتیں کنٹرول میں رہیں تاکہ معاشرے کے نچلے اور متوسط طبقے پر پڑنے والے منفی اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔