LIVE
Loading Breaking News...

رحم کے اندر منفرد سرجری: برطانوی بچے کی زندگی بچا لی گئی

News Image
برطانیہ میں ایک نوزائیدہ بچے کے بچپن کی پیچیدہ بیماری کو دور کرنے کے لیے رحم کے اندر ایک انقلابی سرجری کی گئی ہے۔ اس طبی کارنامے کے بعد بچہ اب مکمل طور پر صحت یاب ہو رہا ہے اور طبی تاریخ میں اسے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
برطانیہ میں ایک خاتون کی رحم کے اندر ایک انتہائی پیچیدہ اور تاریخی سرجری انجام دی گئی ہے جس کے نتیجے میں ایک معجزاتی بچے کی جان بچا لی گئی ہے۔ پیدائش سے قبل ہی بچے کی انتڑیاں جسم سے باہر تھیں، جو کہ ایک انتہائی نایاب اور خطرناک طبی حالت کہلاتی ہے۔ طبی تاریخ میں پہلی بار برطانیہ میں اس نوعیت کی انٹرا یوٹرائن سرجری کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے، جس نے طبی دنیا میں ایک نئی امید پیدا کر دی ہے۔ اس نئے کلینیکل ٹرائل کے تحت تھیو نامی اس بچے کا یہ منفرد آپریشن کیا گیا۔ جب بچہ ماں کے رحم میں تھا تو ڈاکٹروں کو معلوم ہوا کہ وہ گیسٹروشیسس (gastroschisis) نامی پیچیدہ مرض میں مبتلا ہے، جس میں بچے کی انتڑیاں پیٹ کے حصوں سے باہر نشوونما پاتی ہیں۔ اس خطرناک حالت سے نمٹنے کے لیے ماہرینِ طب نے روایتی طریقوں سے ہٹ کر رحم کے اندر ہی سرجری کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ بچے کو پیدائش کے بعد کسی بڑے نقصان یا معذوری سے بچایا جا سکے۔ سرجری کے دوران ڈاکٹروں نے انتہائی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے رحم کے اندر موجود بچے کی حالت کو بہتر بنایا اور باہر نکلی ہوئی انتड़ियों کو درست پوزیشن میں لانے کے لیے طبی اقدامات کیے۔ یہ تمام عمل انتہائی حساس تھا کیونکہ اس میں ماں اور آنے والے بچے دونوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔ تاہم، طبی ٹیم کی محنت رنگ لائی اور آپریشن کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ اب اس کامیاب طبی عمل کے بعد تھیو دنیا کا پہلا برطانوی بچہ بن گیا ہے جس نے رحم کے اندر ہونے والی اس آزمائشی سرجری کا کامیابی سے سامنا کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی مستقبل میں اس طرح کے پیچیدہ کیسز کے علاج کے لیے ایک نیا دروازہ کھولے گی اور دنیا بھر کے ڈاکٹروں کو اس نوعیت کے پیدائشی نقائص کو قبل از وقت درست کرنے میں مدد ملے گی۔