LIVE
Loading Breaking News...

اسکول کی ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف والدین اور طلبا کی کامیابی

News Image
بی بی سی پینورما کی رپورٹ کے مطابق اکیڈمی ٹرسٹ کے سخت تعلیمی قوانین نے حد پار کر دی تھی۔ تاہم والدین، طلبا اور سابق اساتذہ کی مشترکہ جدوجہد کے بعد اسکول انتظامیہ کو اپنے سخت اقدامات واپس لینا پڑے۔
برطانیہ میں ایک اکیڈمی ٹرسٹ کے تحت چلنے والے اسکولوں میں سختی اور آمرانہ ضابطوں کے خلاف والدین، طلبا اور سابق اساتذہ نے اٹھ کھڑے ہو کر ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ بی بی سی کے پروگرام پینورما کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق، ان اسکولوں میں نافذ کردہ نظم و ضبط کے سخت قوانین نے تمام حدیں پار کر دی تھیں، جس کی وجہ سے بچوں اور والدین کی زندگیاں اجیرن بن گئی تھیں۔ اسکولوں میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر کڑے جرمانوں اور سزاؤں کا رواج عام تھا، جسے متاثرہ فریق نے ظالمانہ قرار دیا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسکول انتظامیہ کی جانب سے نافذ کردہ ضابطے نہ صرف طلبا بلکہ اساتذہ کے لیے بھی ذہنی دباؤ کا باعث بن رہے تھے۔ کئی سابق اساتذہ نے بتایا کہ وہ اس آمرانہ ماحول سے تنگ آ کر اپنے عہدوں سے استعفیٰ دینے پر مجبور ہو گئے تھے۔ طلبا کا کہنا تھا کہ اسکول کا ماحول کسی جیل جیسا بن چکا تھا جہاں ہر وقت خوف اور سنسرشپ کا راج رہتا تھا، اور معمولی غلطیوں پر بھی سخت ترین تادیبی کارروائی عمل میں لائی جاتی تھی۔ اس صورتحال سے تنگ آ کر والدین اور طلبا نے خاموش رہنے کے بجائے باضابطہ طور پر آواز بلند کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اکیڈمی ٹرسٹ کی ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مہم شروع کی، شواہد اکٹھے کیے اور میڈیا کے سامنے اپنی مشکلات رکھیں۔ اس عوامی دباؤ اور قانونی چارہ جوئی کے خطرے کے پیش نظر بالآخر اسکول انتظامیہ کو جھکنا پڑا اور انہیں اپنے سخت قوانین میں نمایاں تبدیلیاں کرنا پڑیں۔ اس فتح کو تعلیمی حلقوں میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے جو یہ ثابت کرتی ہے کہ اگر والدین اور طلبا متحد ہو جائیں تو وہ کسی بھی ناانصافی اور آمرانہ نظام کے خلاف ڈٹ سکتے ہیں۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں نظم و ضبط ضروری ہے لیکن اسے بچوں کی ذہنی صحت اور بنیادی انسانی حقوق کی قیمت پر نافذ نہیں کیا جانا چاہیے۔