World
میانمار: آنگ سان سوچی کی ڈھائی سال بعد پہلی ملاقات اور تصاویر جاری
میانمار کی فوجی حکومت کی جانب سے جاری کردہ نئی تصاویر میں معزول رہنما آنگ سان سوچی کو ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے ایک اہلکار سے ملاقات کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ ڈھائی سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ ان کی باہر کی دنیا سے کسی تصدیق شدہ رابطے کی خبر سامنے آئی ہے۔
میانمار کی فوجی حکومت نے ملک کی معزول رہنما آنگ سان سوچی کی نئی تصاویر جاری کی ہیں، جو گزشتہ ڈھائی سال کے دوران ان کا باہر کی دنیا سے پہلا تصدیق شدہ رابطہ ہے۔ سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق ان تصاویر میں آنگ سان سوچی کو ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی یعنی آئی سی آر سی (ICRC) کے ایک اہلکار سے ملاقات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، اور وہ بظاہر صحت مند نظر آ رہی ہیں۔ یاد رہے کہ فروری 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد سے آنگ سان سوچی کو حراست میں رکھا گیا ہے اور تب سے لے کر اب تک ان کے بیرونی دنیا سے رابطے پر سخت پابندیاں عائد تھیں۔ اس دوران ان کی خیریت کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کیونکہ ان کے وکلاء اور خاندان کو بھی ان تک رسائی نہیں دی گئی۔ حالیہ دنوں میں جاری ہونے والی ان تصاویر اور ملاقات نے عالمی برادری کی توجہ ایک بار پھر میانمار کی سیاسی صورتحال اور سیاسی قیدیوں کے حالات پر مبذول کرا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی سی آر سی کے نمائندوں کی جانب سے اس قسم کے دورے قیدیوں کے حالاتِ زندگی اور ان کی فلاح و بہبود کا جائزہ لینے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ تاہم، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ محدود نوعیت کے یہ رابطے ناکافی ہیں اور تمام سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے۔ آنگ سان سوچی اس وقت متعدد الزامات کے تحت طویل قید کی سزا کاٹ رہی ہیں، جنہیں ان کے حامی اور بین الاقوامی ادارے سیاسی طور پر وائٹ واش قرار دیتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس ملاقات کی تصاویر جاری کرنے کا مقصد ممکنہ طور پر عالمی دباؤ کو کم کرنا ہے، لیکن میانمار میں جمہوریت کی بحالی اور سیاسی استحکام کے لیے ابھی بھی طویل راستہ طے کرنا باقی ہے۔