World
کیوبا میں تاریخی بلیک آؤٹ، بجلی کا نظام درہم برہم
کیوبا کا بوسیدہ بجلی کا نظام ہفتے کے آخر میں طویل تعطل اور ایندھن کی شدید قلت کے بعد اتوار کو مکمل طور پر ناکارہ ہوگیا۔ اس اچانک ملک گیر بلیک آؤٹ نے عام زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
کیوبا کا بوسیدہ اور پرانا بجلی کا نظام اتوار کے روز مکمل طور پر بیٹھ گیا جس کی وجہ سے پورے ملک میں غیر معینہ مدت کے لیے طویل بلیک آؤٹ ہو گیا ہے۔ یہ صورتحال گزشتہ کئی دنوں سے جاری بجلی کی بندش اور امریکہ کی جانب سے عائد کردہ ایندھن کی شدید قلت کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ حکام نے صورتحال کو سنبھالنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات شروع کر دیے ہیں تاہم بحران کی شدت اتنی زیادہ ہے کہ فوری طور پر نظام کی بحالی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ملک گیر بلیک آؤٹ کی وجہ سے دارالحکومت سمیت تمام بڑے شہروں میں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے اور نظامِ زندگی مکمل طور پر رک گیا ہے۔
اس ہنگامی صورتحال کے باعث ہسپتالوں، پانی کی فراہمی کے پلانٹس اور دیگر ضروری خدمات کو چلانے کے لیے جنریٹرز کا سہارا لیا جا رہا ہے، لیکن ایندھن کی مسلسل قلت کے سبب یہ انتظامات بھی زیادہ دیر تک کارآمد نہیں رہ سکتے۔ کیوبا کے محکمہ توانائی کے ترجمان کے مطابق، پاور گرڈ پر ضرورت سے زیادہ دباؤ اور خستہ حال انفراسٹرکچر اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں، جنہیں فوری طور پر بہتر بنانا انتہائی مشکل مرحلہ بن چکا ہے۔ ملک میں پہلے ہی معاشی دباؤ اور ایندھن کے ذخائر ختم ہونے کے قریب ہیں، جس کی وجہ سے بجلی گھروں کو چلانے کے لیے مطلوبہ مقدار میں تیل یا گیس فراہم نہیں کی جا رہی۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ کیوبا کو اس وقت تاریخ کے بدترین معاشی اور توانائی کے بحران کا سامنا ہے، جو عام شہریوں کے لیے روزمرہ کی زندگی کو انتہائی دشوار بنا رہا ہے۔ حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کٹھن وقت میں تحمل کا مظاہرہ کریں اور بجلی کی بچت کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک بین الاقوامی سطح پر ایندھن کی درآمدات کے مسائل حل نہیں ہوتے اور گرڈ کی مرمت کے لیے بڑے پیمانے پر سرمائے کی فراہمی ممکن نہیں ہوتی، اس قسم کے بلیک آؤٹ کا خطرہ بدستور برقرار رہے گا۔