Pakistan
آزاد کشمیر انتخابات: ن لیگ کی کامیابی اور پیپلز پارٹی کے الزامات
آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے دوسرے مرحلے کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن نے چودہ نشستیں حاصل کر لی ہیں جبکہ پیپلز پارٹی نے چار نشستیں جیتی ہیں۔ پیپلز پارٹی نے انتخابات میں دھندلی اور تشدد کے الزامات عائد کیے ہیں جنہیں مسلم لیگ ن نے مسترد کر دیا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مسلم لیگ (ن) نے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے چودہ نشستیں اپنے نام کر لی ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی صرف چار نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ غیر سرکاری نتائج کے مطابق یہ مرحلہ انتہائی اہمیت کا حامل تھا جہاں کل اٹھارہ نشستوں پر مقابلہ تھا۔ خراب موسم اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بعض پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹنگ کا عمل معطل بھی کرنا پڑا جس کی وجہ سے الیکشن کے انتظامات متاثر ہوئے۔ چیف الیکشن کمیشن کے پریس ٹاک کے بعد سرکاری ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ ن نے اپنی پوزیشن کو انتہائی مستحکم کر لیا ہے۔
انتخابی عمل کے دوران پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن پر جو کہ مرکز میں اس کی اتحادی ہے، انتخابی ضابطے کی خلاف ورزی، دھاندلی اور تشدد کے سنگین الزامات عائد کیے۔ پیپلز پارٹی کا مؤقف تھا کہ پہلے مرحلے کی طرح دوسرے مرحلے میں بھی ان کے مینڈیٹ کو چرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم مسلم لیگ ن کے رہنما اور مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نے مطلوبہ سادہ اکثریت حاصل کر لی ہے اور اب آزاد کشمیر میں عوام کے مینڈیٹ کے مطابق جمہوری حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کل پینتالیس میں سے مسلم لیگ ن تئیس نشستیں حاصل کر چکی ہے۔
رانا ثناء اللہ نے پریس کانفرنس میں پیپلز پارٹی پر جوابی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی شکست کو سامنے دیکھ کر بے بنیاد بیانیہ تراش رہے ہیں اور دھاندلی کا شور مچا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی نے بعض مقامی گروہوں کے ساتھ مل کر انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے اور پولیس پر حملے کرنے کی سازش کی جس سے علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوا۔ مسلم لیگ ن کے رہنما کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کی روایات کے مطابق ووٹرز کی بڑی تعداد پولنگ کے دن باہر نکلتی ہے جس پر پیپلز پارٹی کے اعتراضات بے بنیاد ہیں۔ تیسرے مرحلے کے انتخابات پونچھ ڈویژن میں منعقد ہوں گے جس کے بعد مسلم لیگ ن کا پارلیمانی اجلاس طلب کیا جائے گا تاکہ آئندہ کی سیاسی حکمت عملی اور حکومت سازی کے حتمی فیصلے کیے جا سکیں۔