World
ٹرمپ کا ایران کے ساتھ نئے مذاکرات شروع کرنے کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ایک بڑے حملے کو روکنے کے بعد تہران کے ساتھ نئے مذاکرات کا آغاز آج سے ہونے کا اعلان کیا ہے۔ یہ مذاکرات آبنائے ہرمز اور ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے سے متعلق امور پر مرکوز ہوں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ نئے مذاکرات کا آغاز آج دوپہر سے ہوگا۔ یہ فیصلہ انہوں نے تہران پر ایک بڑے حملے کے ارادے کو عارضی طور پر مؤخر کرنے کے بعد کیا ہے، تاکہ جنگ کو ختم کرنے کے لیے کسی حتمی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔ صدر ٹرمپ نے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان مذاکرات میں خاص طور پر آبنائے ہرمز کے امور اور بالآخر ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے جیسے اہم موضوعات کا احاطہ کیا جائے گا۔ آبنائے ہرمز دنیا بھر میں توانائی کی سپلائی کا ایک بنیادی اور انتہائی حساس راستہ ہے جو اس تنازعے کا سب سے بڑا نکتہ بن چکا ہے۔
ٹرمپ نے مزید بتایا کہ انہیں ایران کے علاوہ خطے میں امریکہ کے شراکت داروں یعنی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کی جانب سے بھی یہ درخواست کی گئی تھی کہ وہ اس حملے سے باز رہیں، جسے انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا۔ دوسری جانب ایرانی میڈیا نے اس بات کی تردید کی ہے کہ تہران نے امریکی صدر سے حملہ نہ کرنے کی کوئی درخواست کی تھی۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری اس کشیدگی کے باعث ایشیائی تجارت کے آغاز پر تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جہاں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں 4.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ایرانی پارلیمانی کمیشن کے ترجمان حسن قشقوی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ثالث ممالک امریکہ اور ایران کے درمیان جون میں طے پانے والے مفاہمت کی یادداشت کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فریقین بخوبی جانتے ہیں کہ اس وقت اصل اور کلیدی مسئلہ آبنائے ہرمز ہی ہے۔ اس دوران، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ سلطنت عمان کے ساتھ آبنائے میں ایک نئے متبادل راستے کے حوالے سے معاہدہ طے پانے کے قریب ہے، جو دونوںممالک کی خودمختاری کا احترام کرے گا۔
ماضی میں آبنائے ہرمز سے تمام بحری جہازوں کی آزادانہ آمد و رفت جاری تھی لیکن جنگ شروع ہونے کے بعد ایران نے اس راستے کو بند کر دیا تھا اور اب اس پر کنٹرول کے ساتھ ٹول چارجز عائد کرنے پر بضد ہے، جسے واشنگٹن یکسر مسترد کرتا ہے۔ اتوار کے روز عمان کے قریب ایک آئل ٹینکر کے پاس دھماکے کی اطلاع بھی ملی، جس سے اسٹریٹجک آبی گزرگاہ پر مسلسل موجود تناؤ اور خطرات کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات شروع ہونے جا رہے ہیں، تاہم خطے میں امریکی سفارت خانے تاحال ہائی الرٹ پر موجود ہیں اور دنیا کی نظریں اس نئی سفارتی پیش رفت پر مرکوز ہیں۔