Health
کراچی میں بچوں کی اموات کی وجوہات پر اہم طبی تحقیق اور MITS کا استعمال
آغا خان یونیورسٹی اور چیمپس پروگرام کے تحت کراچی کے پسماندہ علاقوں میں کم سے کم جراحی کے ٹشو سیمپلنگ (MITS) کے ذریعے بچوں کی اموات کی اصل وجوہات کا پتہ لگایا جا رہا ہے۔ اس جدید طریقہ کار سے روایتی ہسپتالوں کے ریکارڈ اور زبانی بیانات کی نسبت زیادہ درست طبی شواہد سامنے آ رہے ہیں۔
کراچی کے پسماندہ علاقوں جیسے بھینس کالونی، ابراہیم حیدری اور علی اکبر شاہ میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات کی اصل وجوہات جاننے کے لیے ایک منفرد اور اہم طبی تحقیق جاری ہے۔ آغا خان یونیورسٹی (AKU) کے اشتراک سے چلنے والے اس پروگرام میں 'مائنسلی انویژو ٹشو سیمپلنگ' یعنی ایم آئی ٹی ایس (MITS) کا استعمال کیا جا رہا ہے، جو کہ پوسٹ مارٹم کی ایک جدید اور کم تکلیف دہ قسم ہے۔ اس تحقیق کا مقصد ان چھپی ہوئی وجوہات کا پتہ لگانا ہے جن کی وجہ سے نو مولود بچے اور پانچ سال سے کم عمر کے بچے دنیا سے چلے جاتے ہیں، کیونکہ روایتی طور پر ہسپتالوں کے ریکارڈ اور زبانی بیانات اس حوالے سے مکمل اور درست تصویر پیش کرنے سے قاصر تھے۔
گیٹس فاؤنڈیشن کے تعاون سے سنہ 2015 میں شروع ہونے والے 'چیمپس' (CHAMPS) پروگرام کا بنیادی مقصد ترقی پذیر ممالک میں بچوں کی اموات کے اسباب کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لینا ہے۔ پاکستان میں اس تحقیق کی راہ میں ایک بڑا چیلنج مذہبی روایات اور عقائد تھے، جہاں روایتی چیرو پھاڑ والے پوسٹ مارٹم کو میت کے احترام کے منافی سمجھا جاتا ہے۔ اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے ریسرچ ٹیم نے مقامی علمائے کرام سے رابطے کیے اور تقریبا اٹھائیس فتاویٰ اور گہرےمباحث کے بعد مقامی برادری کا اعتماد حاصل کیا، جس کے نتیجے میں خاندانوں نے رضاکارانہ طور پر اس عمل میں تعاون کرنا شروع کیا۔ ابتدائی مراحل میں ستر فیصد تک گھرانوں نے انکار کیا تھا لیکن آگاہی کے بعد صورتحال بہتر ہوئی۔
ایم آئی ٹی ایس کے طریقہ کار میں ڈاکٹرز یا ماہرین ایک باریک سوئی کی مدد سے دماغ، دل، پھیپھڑوں اور گردوں سے ٹشو اور فلوئڈ کے نہایت قلیل نمونے حاصل کرتے ہیں۔ اس عمل سے لاش کی بے حرمتی بھی نہیں ہوتی اور مکمل پوسٹ مارٹم جتنے ہی درست نتائج حاصل ہو جاتے ہیں۔ ان نمونوں کو جدید لیبارٹریوں میں پی سی آر اور دیگر جدید طریقوں سے ٹیسٹ کیا جاتا ہے تاکہ بیماریوں، انفیکشن اور پیدائشی خرابیوں کا قطعی تعین کیا جا سکے۔ آغا خان یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار نوے فیصد سے زائد کیسز میں موت کی اصل وجہ بتانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس میں ماہرین کا ایک پینل تمام شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیتا ہے۔
تحقیق کے لیے کراچی کے اس ساحلی پٹی کے علاقے کا انتخاب اس لیے کیا گیا کیونکہ یہ ایک چھوٹے پاکستان کی مانند ہے جہاں مختلف لسانی پس منظر اور مذاہب کے لوگ آباد ہیں۔ پاکستان میں بچوں کی اکثریت گھروں میں دم توڑتی ہے اور چند گھنٹوں کے اندر تدفین کر دی جاتی ہے، اس لیے اموات کا سرکاری ریکارڈ بنانا ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ اس مقصد کے لیے ریسرچ ٹیم نے مقامی دکانداروں، تابوت بنانے والوں، ایمبولینس ڈرائیوروں اور مذہبی شخصیات کا ایک نیٹ ورک قائم کیا تاکہ ہر ناگہانی واقعے کی بروقت اطلاع مل سکے۔ اگرچہ اس تحقیق کا دائرہ کار ابھی پالیسی سازی کے لیے مکمل نہیں ہے، لیکن اس سے حاصل ہونے والے شواہد مستقبل میں حکومت اور صحت کے اداروں کو بچوں کی بچائے جانے والی اموات کو روکنے میں مدد فراہم کریں گے۔