LIVE
Loading Breaking News...

حماس کا ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ اور غزہ امن کا مستقبل

News Image
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ کے انتظامی امور کے لیے قائم کردہ تکنیکی کمیٹی کے سامنے اپنے ہتھیار حوالے کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ اس اہم پیش رفت کے بعد اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے انخلا کرتا ہے یا نہیں۔
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے ایک بڑی پیش رفت کے تحت اپنے ہتھیار ترک کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جو کہ فلسطین کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ تنظیم سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ فلسطین کی آزادی کے لیے ایک باقاعدہ مسلح ونگ بھی چلاتی رہی ہے۔ طے پانے والے معاہدے کے مطابق حماس کے ہتھیار غزہ کی انتظامیہ کے لیے تشکیل دی جانے والی اس قومی کمیٹی کے حوالے کیے جائیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ پارٹی کے بورڈ آف پیس کے تحت بنائی گئی ٹیکنوکریٹ باڈی ہے۔ اس اقدام کے ذریعے حماس نے دراصل اسرائیل کو ایک بڑا چیلنج دے دیا ہے کہ اگر وہ اپنے ہتھیار پھینکنے کو تیار ہیں تو کیا صہیونی ریاست بھی غزہ پر اپنا ناجائز قبضہ ختم کرے گی؟ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیش رفت پر کافی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اس سے بہت خوش ہے، تاہم تل ابیب کی طرف سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ دوسری طرف اسرائیلی کابینہ کے بعض وزراء سمیت اکثر سیاستدانوں نے اس اقدام کی مخالفت کی ہے اور حماس کے مکمل خاتمے کا مطالبہ جاری رکھا ہے۔ اب یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آیا اسرائیل اپنے وعدے پر پورا اترتا ہے اور غزہ کے مقبوضہ علاقوں سے اپنی فوجیں واپس بلاتا ہے یا نہیں۔ ماضی کے تلخ تجربات بتاتے ہیں کہ اسرائیلی حکمران اپنے وعدوں کے پاسدار نہیں رہے۔ مزید برآں، اکتوبر میں ہونے والے انتخابات اور وہاں کے رائے دہندگان کے درمیان پائے جانے والے شدید فلسطینی مخالف جذبات بھی اس معاملے کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد سے اسرائیل نے ہزاروں فلسطینیوں کو شہید کیا ہے جن میں بڑی تعداد معصوم بچوں کی بھی شامل ہے، اور اگرچہ جنگ بندی کے بعد تشدد میں کچھ کمی آئی ہے لیکن مکمل خاتمہ نہیں ہوا۔ غزہ میں انسانی بحران بدستور سنگین ہے اور بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ اگر صورتحال کو بہتر بنانا ہے تو ضروری ہے کہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف واضح راستہ نکالا جائے، اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ ہو اور مقبوضہ علاقوں سے مکمل انخلا یقینی بنایا جائے۔ اب یہ ذمہ داری امریکی صدر اور ان کے بورڈ آف پیس پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں کہ وہ غزہ سے انخلا کا عمل شروع کرے اور انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنائے۔ اگر اسرائیل اس پر عمل نہیں کرتا تو دنیا پر واضح ہو جائے گا کہ وہ امن کا خواہاں نہیں بلکہ صرف قبضے کو طول دینا چاہتا ہے۔