Pakistan
آزاد کشمیر انتخابات: ن لیگ کی برتری اور پیپلز پارٹی کے دھاندلی کے الزامات
آزاد جموں و کشمیر کے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مسلم لیگ ن نے چودہ نشستیں حاصل کر کے واضح برتری حاصل کر لی ہے۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے انتخابی عمل کو مسترد کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں پاکستان مسلم لیگ نون (پی ایم ایل این) نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چودہ نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی ہے اور وہ مجموعی طور پر سب سے آگے ہے۔ انتخابی نتائج کے سامنے آنے کے بعد سیاسی گلیاروں میں ہلچل مچ گئی ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ مسلم لیگ ن نے اس انتخابی مرحلے میں اپنی برتری کو مستحکم کرتے ہوئے مخالف جماعتوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جس کے بعد کارکنان میں جشن کا سماں دیکھا جا رہا ہے۔
تاہم، اس انتخابی عمل پر تنازع بھی پیدا ہو گیا ہے کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے ان انتخابات کے نتائج اور پورے عمل کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کا الزام ہے کہ پولنگ کے دوران بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی ہے اور انتخابی نتائج کو جان بوجھ کر متاثر کیا گیا ہے۔ پی پی پی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ووٹرز کے مینڈیٹ کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا، اور انہوں نے اس پورے عمل کے خلاف بھرپور احتجاج کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ نون کی قیادت نے پیپلز پارٹی کی جانب سے لگائے جانے والے تمام دھاندلی کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ن لیگ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انتخابات کا یہ دوسرا مرحلہ مکمل طور پر شفاف، منصفانہ اور پرامن طریقے سے منعقد ہوا ہے، اور عوام نے آزادانہ طور پر اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اپنی شکست کو چھپانے کے لیے بے بنیاد اور جھوٹے الزامات کا سہارا لے رہی ہے کیونکہ عوام نے ترقی کے ایجنڈے کو ووٹ دیا ہے۔