LIVE
Loading Breaking News...

ایکس فیکٹر فائنلسٹ کا قتل کے الزامات سے انکار

News Image
برطانیہ میں ایک سابق ایکس فیکٹر فائنلسٹ نے صوہو کے نائٹ کلب کے باہر ایک سوشل میڈیا انفلونسر کو کار سے کچل کر قتل کرنے کے الزامات کی تردید کی ہے۔ ملزمہ گیبریل کیرنگٹن پر 19 اپریل کو کلاودیا زاکرزیویسکا کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
برطانیہ کے مشہور رئیلٹی شو ایکس فیکٹر کی سابق فائنلسٹ گیبریل کیرنگٹن نے لندن کے علاقے صوہو میں واقع ایک نائٹ کلب کے باہر ایک سوشل میڈیا انفلونسر کو کار تلے روند کر قتل کرنے کے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ عدالتی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ 19 اپریل کو پیش آیا تھا جہاں مبینہ طور پر ایک کار کی ٹکر سے انفلونسر کلاودیا زاکرزیویسکا شدید زخمی ہو گئی تھیں اور بعد میں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا اور مقامی حلقوں میں شدید ہلچل مچا دی ہے کیونکہ دونوں فریقین کسی نہ کسی حوالے سے عوامی شناخت رکھتی ہیں۔ ابتدائی پولیس تحقیقات اور پراسیکیوشن کے مطابق یہ واقعہ لندن کے مصروف ترین تفریحی مرکز صوہو میں نائٹ کلب انکا کے باہر پیش آیا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمہ گیبریل کیرنگٹن نے مبینہ طور پر جان بوجھ کر اپنی گاڑی مقتولہ کلاودیا زاکرزیویسکا پر چڑھا دی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی شدید زخمی ہو گئیں اور ہسپتال پہنچنے کے بعد ان کی موت کی تصدیق کی گئی۔ پولیس نے اس واقعے کے فوراً بعد کارروائی کرتے ہوئے ملزمہ کو حراست میں لے لیا تھا اور اس پر سنگین نوعیت کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ تاہم، عدالت میں ہونے والی ابتدائی سماعت کے دوران ملزمہ گیبریل کیرنگٹن نے اپنے اوپر لگائے گئے قتل کے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ یہ ایک حادثہ تھا یا اس واقعے کو اس تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے جیسا کہ استغاثہ پیش کر رہا ہے۔ عدالت نے اس معاملے کی مزید سماعت اور شواہد کی جانچ پڑتال کے لیے اگلی تاریخ مقرر کر دی ہے جبکہ اس سنسنی خیز مقدمے کی میڈیا میں بھی کوریج کی جا رہی ہے کیونکہ اس میں ایک مشہور شخصیات کے جڑے ہونے کا معاملہ ہے۔ تفتیش کار اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا واقعے سے قبل دونوں خواتین کے درمیان کوئی پرانی دشمنی یا تلخ کلامی تو نہیں ہوئی تھی۔ عدالتی کارروائی کے دوران مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے، جبکہ مقتولہ کے لواحقین اور مداحوں کی جانب سے انصاف کی فراہمی کے لیے آواز بلند کی جا رہی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تمام پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں کہ واقعے کی اصل حقیقت کیا تھی اور اس ہلاکت کے پیچھے محرکات کیا تھے۔