World
برطانیہ میں تارکین وطن کی روک تھام، ریفارم پارٹی کا نیوی استعمال کرنے کا عزم
ریفارم پارٹی کے ترجمان ضیا یوسف نے اعلان کیا ہے کہ تارکین وطن کی چھوٹی کشتیوں کو روکنے کے لیے برطانوی بحریہ کا استعمال کیا جائے گا۔ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد انگلش چینل میں کی جانے والی سب سے بڑی فوجی کارروائی ہوگی۔
برطانیہ کی سیاسی فضا میں مہاجرین کا معاملہ ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے جہاں ریفارم پارٹی نے ملک میں داخل ہونے والی چھوٹی کشتیوں کو روکنے کے لیے انتہائی سخت لائحہ عمل کا اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان برائے امورِ خانہ داری ضیا یوسف کا کہنا ہے کہ اگر ان کی جماعت کو اقتدار ملا تو وہ انگلش چینل میں تارکین وطن کی آمد کو روکنے کے لیے باقاعدہ طور پر برطانوی نیوی کو میدان میں اتاریں گے۔
ضیا یوسف نے اس مجوزہ اقدام کو دوسری جنگ عظیم کے بعد انگلش چینل میں ہونے والی سب سے بڑی فوجی کارروائی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا بنیادی مقصد ملکی سرحدوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا اور غیر قانونی تارکین وطن کے اس بہاؤ کو روکنا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر خطرناک سمندری راستوں سے برطانیہ کا رخ کرتے ہیں۔ پارٹی کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں تارکین وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کی سمندری راستوں سے آمد پر قابو پانے کے مطالبات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
دوسری جانب، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی مخالفین کی طرف سے اس نوعیت کے فوجی اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سمندری حدود میں نیوی کی براہِ راست مداخلت سے انسانی جانوں کو مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، کیونکہ تارکین وطن انتہائی کسمپرس اور خطرناک حالات میں سفر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود ریفارم پارٹی نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ملکی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کے لیے پرعزم ہیں اور ان کی پالیسی قومی مفاد کو سب سے مقدم رکھتی ہے۔