LIVE
Loading Breaking News...

خواتین اور گرمی کے خطرات: وجوہات اور حفاظتی اقدامات

News Image
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ خواتین کو گرمی سے متعلقہ خطرات کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے ان کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے۔ درجہ حرارت میں اضافے کے دوران خواتین کو اپنی صحت کا خاص خیال رکھنے اور کچھ آسان احتیاطی تدابیر اپنانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور ہیٹ ویوز کے دوران ماہرین نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ خواتین کو مردوں کے مقابلے میں گرمی کی شدت زیادہ شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ حیاتیاتی اور جسمانی ساخت کے لحاظ سے خواتین کو گرمی سے جڑے خطرات کا سامنا زیادہ ہوتا ہے، جس پر اب خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے عالمی سطح پر آگہی مہمات چلانے اور خواتین کے تحفظ کے لیے زیادہ مؤثر اور ہدفی اقدامات کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے تاکہ گرم موسم کے منفی اثرات سے بچا جا سکے۔ طبی تحقیق کے مطابق خواتین کے جسم کا میٹابولزم اور ہارمونل تبدیلیاں گرمی کے ردعمل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ حمل، ہارمونل اتار چڑھاؤ اور جسمانی ساخت کی وجہ سے خواتین کے لیے جسم کا اندرونی درجہ حرارت متوازن رکھنا بعض اوقات مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہیٹ اسٹروک، تھکاوٹ اور پانی کی کمی کا شکار جلد ہو جاتی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ان خطرات کے بارے میں بروقت آگہی فراہم کی جائے اور مناسب حفاظتی تدابیر اختیار کی جائیں تو بہت سے طبی مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔ گرمی کی اس لہر کے دوران خواتین کو اپنے روزمرہ کے معمولات میں کچھ آسان تبدیلیاں لانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ سب سے پہلے، جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں اور دن بھر میں وافر مقدار میں پانی، جوس اور الیکٹرولائٹس کا استعمال کریں۔ شدید دھوپ کے اوقات میں باہر نکلنے سے گریز کریں اور اگر گھر سے باہر جانا ناگزیر ہو تو ہلکے رنگ کے کھلے کپڑے پہنیں، چھتری کا استعمال کریں اور سر کو ڈھانپ کر رکھیں۔ کام کی جگہوں اور گھروں میں ہوادار ماحول کو یقینی بنانا بھی انتہائی ضروری ہے۔ آخر میں، حکومتوں، اداروں اور معاشرے کے ہر فرد کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ گرمی کے اثرات سب کے لیے یکساں نہیں ہوتے۔ خواتین، خصوصاً حاملہ خواتین اور گھروں میں کام کرنے والی خواتین کو اس حوالے سے زیادہ تحفظ کی ضرورت ہے۔ اگر ہم سب مل کر احتیاطی تدابیر پر عمل کریں اور کمزور طبقات کا خیال رکھیں تو اس شدید گرمی کے نقصانات کو کافی حد تک کم کیا جا सकता ہے۔