LIVE
Loading Breaking News...

سمندر میں ڈوبتے بیٹے کو بچانے میں ناکام باپ کا دردناک بیان

News Image
برطانیہ کے ساحل پر سمندر کی تیز لہروں کے دوران ایک سات سالہ بچے کو بچانے کی کوشش کرنے والے والد کو شدید بے بسی کا سامنا کرنا پڑا۔ شاہین احمد نے بتایا کہ وہ اپنے بیٹے تک پہنچنے کی بھرپور کوشش کر رہے تھے لیکن طاقتور لہروں نے انہیں پیچھے دھکیل دیا۔
ساحلی علاقوں میں تفریح کے لیے جانے والے افراد کے لیے ایک انتہائی المناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک والد اپنے سات سالہ معصوم بیٹے کو سمندر کی لہروں سے بچانے میں ناکام اور مکمل طور پر بے بس رہ گیا۔ اس افسوسناک واقعے نے ہر دیکھنے والے اور سننے والے کا کلیجہ ہلا کر رکھ دیا ہے۔ والد شاہین احمد کے مطابق، جب انہوں نے اپنے لعل کو لہروں کی لپیٹ میں دیکھا تو ان کی جان پر بن آئی، لیکن قدرتی طاقتوں کے آگے انسان کی بے بسی نے انہیں شدید صدمے سے دوچار کر دیا۔ شاہین احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے بیٹے کو بچانے کے لیے ہر ممکنہ کوشش کر رہے تھے اور پانی میں آگے بڑھنے کی بھرپور جدوجہد کی، مگر سمندر کی طاقتور اور بے رحم لہروں نے انہیں بار بار پیچھے دھکیل دیا۔ انہوں نے کہا کہ والد ہونے کے ناطے وہ اپنے جگر گوشے کو بچانے کی آخری حد تک لڑے لیکن لہروں کا زور اتنا زیادہ تھا کہ وہ اپنے بیٹے تک نہ پہنچ سکے۔ اس دلخراش واقعے کے بعد ساحلی علاقوں میں حفاظتی انتظامات اور حفاظتی تدابیر پر ایک بار پھر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندر کی لہریں بظاہر پرسکون دکھائی دیتی ہیں لیکن ان کے اندرونی ریلے انتہائی خطرناک ہوتے ہیں جو کسی بھی انسان کو پل بھر میں اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ مقامی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ سمندر کنارے تفریح کرتے وقت انتہائی احتیاط سے کام لیں اور بچوں کو پانی کے قریب اکیلا بالکل نہ چھوڑیں۔ اس سانحے نے نہ صرف ایک خاندان کو ہمیشہ کے لیے غم میں ڈبو دیا ہے بلکہ ساحلی سیاحت کے دوران احتیاطی تدابیر کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔