LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل کے غزہ پر حملے، امریکی امن منصوبہ خطرے میں

News Image
اسرائیل نے غزہ پر مہلک حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے اور سخت گیر مطالبات پیش کیے ہیں۔ اس اقدام سے امریکہ کی حمایت یافتہ امن کی کوششیں شدید خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر اپنے مہلک حملوں میں ایک بار پھر خطرناک حد تک اضافہ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید شدت آ گئی ہے۔ تازہ ترین فوجی کارروائیوں کے دوران متعدد فلسطینی شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ان جارحانہ اقدامات کا مقصد خطے میں اپنی عسکری برتری کو مسلط کرنا اور حماس کے خلاف کارروائیوں کو وسعت دینا ہے۔ اس صورتحال نے بین الاقوامی برادری بالخصوص خطے میں امن قائم کرنے کی کوشش کرنے والے ممالک کے لیے شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ دوسری جانب، اس تازہ کشیدگی نے امریکی انتظامیہ کی طرف سے پیش کردہ امن کے روڈ میپ کو بھی شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ اسرائیل کے اس رویے کو امریکی امن منصوبے کی کھلی مخالفت اور حکم عدولی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے وائٹ ہاؤس کی سفارتی کوششیں ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے سخت گیر مطالبات اور جنگ بندی کے معاہدوں سے انکار کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں امن کا قیام اب ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ امریکی حمایت یافتہ امن پلان کے تحت غزہ میں مستقل جنگ بندی اور امداد کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا، لیکن حالیہ حملوں نے اس پورے عمل کو غیر موثر کر دیا ہے۔ فلسطینی رہنماؤں اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیل کی ان کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے اور فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معصوم شہریوں پر بمباری کا یہ سلسلہ فوری طور پر بند ہونا چاہیے تاکہ کسی بڑے انسانی بحران کو روکا جا سکے، لیکن اسرائیلی حکومت اپنے موقف پر اڑی ہوئی ہے اور حملے جاری رکھنے کا عزم ظاہر کر رہی ہے۔