World
فرانس اور اسپین میں جنگلات کی ہولناک آگ اور موسمیاتی خطرات
فرانس اور اسپین میں شدید گرمی اور بدلتے ہوئے موسمی حالات کے باعث جنگلات میں لگنے والی آگ اب تک بے قابو ہے اور متاثرہ علاقوں میں مزید تباہی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یورپی خطے میں بڑھتا ہوا درجہ حرارت اس نوعیت کے قدرتی حادثات میں اضافے کی بڑی وجہ بن رہا ہے۔
یورپ میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کے نتیجے میں فرانس اور اسپین کے جنگلات میں لگی آگ پر تاحال مکمل قابو نہیں پایا جا سکا۔ اطلاعات کے مطابق آگ کے باعث وسیع و عریض رقبے پر پھیلے ہوئے سرسبز جنگلات جل کر خاکستر ہو چکے ہیں، جبکہ قریبی آبادیوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ مقامی فائر فائٹنگ ادارے اور عملہ دن رات آگ بجانے کی کارروائیوں میں مصروف ہے مگر تیز ہواؤں اور خشک سالی کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ یورپ میں زمین کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت اس طرح کے خطرناک واقعات کو معمول بنا رہا ہے۔ فرانس اور اسپین کے کئی علاقوں میں ہیٹ ویو کی طویل لہروں نے حالات کو مزید خراب کر دیا ہے، جس کی وجہ سے پودے اور درخت انتہائی خشک ہو چکے ہیں اور ذرا سی چنگاری بھی بڑے پیمانے پر آگ کا سبب بن جاتی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے متعدد مقامات پر انخلا کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں تاکہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے یورپی یونین کے دیگر ممالک سے بھی تکنیکی اور عملے کی مدد طلب کی جا رہی ہے۔ موسمیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر آنے والے دنوں میں بارشیں نہ ہوئیں اور درجہ حرارت میں کمی واقع نہ ہوئی تو دونوں ممالک میں آگ لگنے کے یہ واقعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں، جس سے نہ صرف کروڑوں روپے مالیت کی املاک اور جنگلی حیات کو نقصان پہنچے گا بلکہ خطے کی فضا بھی زہریلی گیسوں کی وجہ سے شدید متاثر ہوگی۔