LIVE
Loading Breaking News...

آن لائن جنسی جرائم اور منشیات کے استعمال کا بڑھتا ہوا عالمی رجحان

News Image
مختلف ممالک میں سامنے آنے والے نئے کیسز سے انکشاف ہوا ہے کہ مردوں کے آن لائن گروپس جنسی زیادتی اور جرائم کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا استعمال کر رہے ہیں۔ ماہرین نے اس خطرناک رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
دنیا بھر کے کئی ممالک میں سامنے آنے والے حالیہ انکشافات نے سکیورٹی اداروں اور ماہرینِ نفسیات کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، مردوں کی جانب سے انٹرنیٹ اور مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسے خفیہ گروپس تشکیل دیے جا رہے ہیں جو مبینہ طور پر منشیات کے ذریعے جنسی زیادتی اور استحصال جیسے بھیانک جرائم میں ملوث ہیں۔ تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ ملزمان رابطے کے لیے جدید اور خفیہ ایپلی کیشنز کا استعمال کرتے ہیں تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچ سکیں۔ ان تمام کیسز میں یہ بات مشترکہ طور پر سامنے آئی ہے کہ مجرم مختلف آن لائن پروفارمز اور جعلی شناخت کا سہارا لے کر متاثرہ افراد کا اعتماد حاصل کرتے ہیں۔ اس کے بعد منظم طریقے سے منشیات یا دیگر نشہ آور اشیاء کا استعمال کر کے انہیں بے ہوش کیا جاتا ہے اور پھر گھناؤنے جرائم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس طرح کے نیٹ ورکس کی بین الاقوامی سطح پر موجودگی نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ سائبر اسپیس اب صرف عام جرائم تک محدود نہیں رہی بلکہ منظم جنسی درندگی کے لیے بھی استعمال ہو رہی ہے۔ پولیس اور سائبر کرائم یونٹس اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو بڑھا رہے ہیں۔ ماہرینِ قانون اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا ماننا ہے کہ آن لائن پلیٹ فارمز کو مزید سخت ضابطوں کے تحت لانے کی ضرورت ہے تاکہ اس طرح کی مجرمانہ سرگرمیوں کو بروقت روکا جا سکے۔ حکومتوں اور ٹیک کمپنیوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کے لیے اپنے سسٹم کو مزید موثر بنائیں تاکہ خواتین اور کمزور طبقات کو اس نئی نوعیت کے ڈیجیٹل خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔