World
میانمار میں معزول رہنما آن سان سوچی کی پہلی تصاویر جاری
میانمار کی فوجی حکومت نے معزول رہنما آن سان سوچی کی 2021 کی بغاوت کے بعد پہلی بار تصاویر جاری کی ہیں۔ ان تصاویر نے بین الاقوامی سطح پر بڑی توجہ حاصل کی ہے اور ان کی صحت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
میانمار کی فوجی حکومت نے سنہ 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد سے نظر بند ملک کی معزول رہنما اور نوبل انعام یافتہ آن سان سوچی کی پہلی تصاویر جاری کر دی ہیں۔ ان تصاویر کے سامنے آنے کے بعد بین الاقوامی برادری اور ان کے حامیوں کی طرف سے شدید ردعمل ظاہر کیا جا رہا ہے، کیونکہ بغاوت کے بعد سے ان کے بارے میں مصدقہ معلومات انتہائی محدود تھیں۔ یہ تصاویر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب میانمار میں خانہ جنگی اور سکیورٹی کی کشیدہ صورتحال بدستور جاری ہے اور فوج کو ملک کے کئی حصوں میں شدید مسلح مزاحمت کا سامنا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ان تصاویر کو جاری کرنے کا مقصد ممکنہ طور پر اندرونی اور بیرونی دباؤ کو کم کرنا یا ان کی صحت سے متعلق افواہوں کی تردید کرنا ہو سکتا ہے، تاہم آزاد ذرائع کی جانب سے ان کی تصدیق ابھی باقی ہے۔ آن سان سوچی کو فوج نے فروری 2021 میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد گرفتار کر لیا تھا اور اس کے بعد سے انہیں مختلف مقدمات میں طویل قید کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے آن سان سوچی سمیت میانمار کے تمام سیاسی قیدیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے جاری جدوجہد کی حمایت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔