LIVE
Loading Breaking News...

سوات خودکش دھماکہ: جاں بحق افراد کی تعداد 19 تک پہنچ گئی

News Image
سوات کے علاقہ کبل میں پولیس اسٹیشن کے قریب ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 19 ہو گئی ہے جبکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے زخمیوں کی عیادت اور حالات کا جائزہ لیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو فیصلہ کن قرار دیتے ہوئے سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
سوات میں کبل پولیس اسٹیشن کے قریب ہونے والے خودکش دھماکے میں زخمی ہونے والے مزید چار افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے ہیں، جس کے بعد اس ہولناک واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 19 تک پہنچ گئی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق یہ خودکش حملہ اتوار کے روز اس وقت پیش آیا جب کبل پولیس اسٹیشن کے متصل پبلک چوک پر بدامنی کے خلاف ایک احتجاج جاری تھا۔ حملہ آور نے پولیس اسٹیشن کے داخلی راستے پر تلاشی کے دوران خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا، جس سے ابتدائی طور پر پولیس اہلکاروں سمیت 15 افراد جاں بحق اور 18 زخمی ہوئے تھے۔ پولیس ترجمان ناصر اقبال کریمی کا کہنا ہے کہ علاج کے دوران مزید چار زخمیوں کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ واقعے کے فوری بعد ریسکیو 1122 کے عملے نے بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا۔ اس حملے میں شہید ہونے والے دو پولیس اہلکاروں کانسکرت مکرم خان اور کانسٹیبل حسین خان کی نمازِ جنازہ جاوید اقبال شہید پولیس لائنز میں ادا کی گئی، جہاں پولیس کے چاق و چوبند دستے نے انہیں سلامی دی اور اعلیٰ عحام نے شرکت کی۔ دوسری جانب، خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے پیر کے روز سوات کا دورہ کیا اور سانحہ کے شہداء کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے سیدو شریف ٹیچنگ ہسپتال کا دورہ کرکے زخمیوں کی عیادت کی اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ وزیر اعلیٰ نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت بھی کی، جس میں انہیں دھماکے اور سکیورٹی اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام اور پولیس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں اور پولیس کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ صوبائی حکومت نے پولیس کی مدد کے لیے بیس ارب روپے کے فنڈز مختص کیے ہیں تاکہ اس ناسور کا جڑ سے خاتمہ کیا جا سکے۔ دریں اثنا، سوات اور اپر سوات میں وکلاء برادری نے مکمل ہڑتال کی اور عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا جبکہ کبل تحصیل میں کاروباری مراکز اور بازار بھی بند رہے تاکہ دہشت گردی کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کیا جا سکے۔