LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ سے مذاکرات کی تردید: ایران کا عمان سے بات چیت کا دعویٰ

News Image
ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات شروع ہونے والے ہیں۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال امریکہ سے نہیں بلکہ عمان سے آبنائے ہرمز میں ایک محفوظ عارضی راستے پر بات کر رہے ہیں۔
ایران نے پیر کے روز اس بات کی تردید کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ اس وقت کوئی مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔ یہ تردید امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے فورا بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک ٹی وی پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ ایران اس وقت امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات نہیں کر رہا، بلکہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں ایک عارضی اور محفوظ راستے کے قیام کے حوالے سے بات چیت میں مصروف ہے۔ اس سے قبل اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ نئے مذاکرات پیر کے روز شروع ہوں گے۔ انہوں نے یہ اعلان اس وقت کیا جب انہوں نے پانچ ماہ سے جاری اس تنازعے کے خاتمے کے لیے ایران پر حملے کا فیصلہ مؤخر کر دیا۔ ٹرمپ کے مطابق، ان مذاکرات کا مقصد آبنائے ہرمز اور بالآخر ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنا ہے۔ امریکی صدر کے اس بیان کے بعد ایشیائی مارکیٹوں میں تیل کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھی گئی، جو اس بات کی غماز ہے کہ عالمی منڈی کشیدگی میں کمی کے آثار کا خیرمقدم کر رہی ہے۔ دوسری جانب، ایرانی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی کمیشن کے ترجمان حسن غضنفری نے بتایا کہ ثالث ممالک امریکہ اور ایران کے درمیان جون میں طے پانے والے مفاہمت کی یادداشت کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایران کا موقف ہے کہ جب تک امریکی جارحیت جاری ہے، آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر نہیں کھولا جا سکتا۔ تاہم، عمان کے ساتھ ایک ایسے متبادل راستے پر سمجھوتہ قریب ہے جو دونوں فریقوں کے حقوق اور قومی سلامتی کا احترام کرتا ہو۔ دنیا کی تیل کی سپلائی کا بڑا حصہ اسی آبنائے سے گزرتا ہے، اس لیے بین الاقوامی برادری کی نظریں اس تنازعے کے سفارتی حل پر لگی ہوئی ہیں۔