World
بھارتی عدالت کا برج بھوشن کو جنسی ہراسانی کے الزامات سے بری کرنے کا فیصلہ
نئی دہلی کی ایک عدالت نے بھارتی ریسلنگ فیڈریشن کے سابق سربراہ برج بھوشن शरण سنگھ کو خواتین ریسلرز کی جانب سے دائر جنسی ہراسانی اور پیچھا کرنے کے مقدمے سے بری کر ਦਿੱتا ہے۔ وکیل کے مطابق عدالت نے گواہوں کے بیانات میں تضاد پائے جانے پر یہ فیصلہ سنایا جبکہ متاثرہ ایتھلیٹس نے اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
نئی دہلی کی ایک عدالت نے پیر کے روز بھارتی ریسلنگ فیڈریشن کے سابق سربراہ اور حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سابق رکن پارلیمنٹ برج بھوشن शरण سنگھ کو خواتین ریسلرز کی جانب سے عائد کردہ جنسی ہراسانی اور پیچھا کرنے کے الزامات سے باعزت بری کر ਦਿੱਤਾ ہے۔ یہ مقدمہ دو ہزار تئیس میں اس وقت سامنے آیا تھا جب ملک کے نامور ریسلرز نے جن میں عالمی چیمپئن وینس پھوگٹ اور اولمپک برانز میڈلسٹ ساکشی ملک بھی شامل تھیں، کئی ہفتوں تک دھرنا دیا اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس احتجاج نے پورے ملک کی توجہ حاصل کی تھی اور دیہی علاقوں میں اس معاملے پر شدید غم و غصہ پایا جاتا تھا۔ برج بھوشن کے وکیل راجیو موہن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ عدالت نے گواہوں کے بیانات میں سنگین تضادات اور اہم امور میں عدم مطابقت پائے جانے کے بعد یہ فیصلہ صادر کیا ہے جس کے تحت ان کے موکل کو معزز طور پر بری کر ਦਿੱਤਾ گیا ہے۔ فیصلے کے بعد ملزم کے حامیوں نے عدالت کے باہر جشن منایا، پٹاخے پھوڑے اور ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔ اس موقع پر برج بھوشن शरण سنگھ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی کہا تھا کہ اگر وہ قصوروار پائے گئے تو خود کو پھانسی دے دیں گے اور آج وہ سر اٹھا کر آزاد گھوم رہے ہیں۔ دوسری جانب متاثرہ ریسلرز نے عدالت کے اس فیصلے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ نامور ریسلر وینس پھوگٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کریں گی اور طاقتور سیاسی رہنما کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک حکمران جماعت کے طاقتور رہنما کے خلاف مقدمہ درج کروانے کے لیے انہیں اور ان کی ساتھیوں کو انتہائی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا اور وہ سڑکوں پر آنے کا حوصلہ کرنے پر آج بھی فخر محسوس کرتی ہیں۔ دہلی پولیس نے دو ہزار تئیس میں مہینوں کے دباؤ کے بعد سابق ریسلنگ سربراہ کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی جب ایتھلیٹس نے پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی تھی اور پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا تھا۔ اس پورے واقعے نے بین الاقوامی سطح پر بھی کھیلوں کے حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا تھا اور خواتین کھلاڑیوں کے تحفظ کے قوانین پر سوالیہ نشان لگائے تھے۔