Pakistan
میر رضا علی قتل کیس: کراچی پولیس کو اہم شواہد اور نیا سراغ مل گیا
کراچی میں کاروباری شخصیت میر رضا علی کے قتل کی تحقیقات میں پولیس کے سامنے اہم پیشرفت ہوئی ہے جہاں مشکوک موٹر سائیکل سواروں کو نیا سراغ قرار دیا جا رہا ہے۔ تفتیش کاروں کے مطابق مقتول کو پیچھے سے گولی مارے جانے کا امکان ہے جبکہ موبائل فون اور پستول ہولسٹر بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔
کراچی میں معروف کاروباری شخصیت میر رضا علی کے پراسرار قتل کے معاملے میں تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے پولیس نے اہم شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق اس قتل کی گتھی سلجھانے کے لیے اب مشکوک موٹر سائیکل سواروں کو ایک نیا اور اہم سراغ قرار دیا جا رہا ہے جن کی تلاش کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیجز اور دیگر تکنیکی ذرائع کی مدد لی جا رہی ہے۔ پولیس حکام اس بات کا بھی گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اس لرزہ خیز واردات میں پیشہ ورانہ مہارت استعمال کی گئی ہے یا اس کے پیچھے کوئی ذاتی رنجش فرما ہے۔
ابتدائی تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق تفتیش کاروں نے اس امکان پر بھی کام شروع کر دیا ہے کہ مقتول میر رضا علی کو مبینہ طور پر پیچھے سے گولی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ جائے وقوعہ کے قریب سے پولیس نے مقتول کا موبائل فون اور پستول کا ہولستر بھی برآمد کر لیا ہے جسے فرانزک جانچ کے لیے لیبارٹری بھیج دیا گیا ہے تاکہ اس سے مزید ڈیجیٹل شواہد اور فنگر پرنٹس حاصل کیے جا سکیں۔ تاہم تفتیش کا بنیادی مرکز تحال وہ تیس بور کا پستول ہے جو واردات کے بعد سے غائب ہے اور تاحال پولیس کو نہیں مل سکا۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گمشدہ تیس بور کا پستول اس پورے قتل کے کیس میں ایک کلیدی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس ہتھیار کی بازیابی سے ہی اصل قاتلوں اور واقعے کے محرکات تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔ تفتیشی ٹیمیں مختلف زاویوں سے تمام شواہد کو باہم جوڑنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ جلد از جلد اس ہائی پروفائل کیس کے حقائق کو عوام کے سامنے لایا جا سکے اور ملوث ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکے۔