World
شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن کا بچوں کی پرورش سے متعلق نیا فیصلہ
برطانوی شاہی جوڑے شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ مڈلٹن نے اپنے بچوں کی تربیت اور خاندانی زندگی کے لیے ایک نیا لائحہ عمل طے کر لیا ہے۔ اس نئے اقدام کا مقصد بچوں کو شاہی دباؤ سے دور رکھ کر ایک عام ماحول فراہم کرنا ہے۔
برطانوی شاہی خاندان کے اہم ترین اراکین شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیٹ مڈلٹن نے اپنے تینوں بچوں، شہزادہ جارج، شہزادی شارلٹ اور شہزادہ لوئس کی پرورش اور دیکھ بھال کے لیے ایک نیا اور سخت لائحہ عمل طے کیا ہے۔ شاہی محل کے قریبی ذرائع کے مطابق اس فیصلے کا بنیادی مقصد بچوں کو میڈیا کی غیر ضروری توجہ اور شاہی ذمہ داریوں کے دباؤ سے محفوظ رکھنا ہے تاکہ وہ ایک نسبتاً عام اور پرسکون بچپن گزار سکیں۔ کیٹ مڈلٹن اور شہزادہ ولیم طویل عرصے سے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ان کے بچوں کو روایتی شاہی پابندیوں کے بجائے جدید اور متوازن ماحول میں پروان چڑھنا چاہیے۔ اس نئے اصول کے تحت بچوں کے لیے ڈیجیٹل میڈیا کے استعمال، اسکول کے بعد کی سرگرمیوں اور عوام کے سامنے آنے کے اوقات کار کو از سر نو ترتیب دیا گیا ہے۔ شاہی جوڑے کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ ان کے بچے شاہی پروٹوکول کے سخت حصار میں گھٹنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو کھل کر نکھار سکیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہزادہ ولیم اپنے بچوں کو عام اسکول کے بچوں کی طرح زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرنا چاہتے ہیں، جس کی جھلک ان کے حالیہ فیصلوں میں بھی واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔ کیٹ مڈلٹن کی صحت کے حوالے سے حالیہ چیلنجز کے بعد بھی اس خاندان نے خاندانی اقدار اور بچوں کی تربیت کو اپنی اولین ترجیح بنائے رکھا ہے۔ شاہی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ نیا قدم برطانوی شاہی خاندان کی آنے والی نسل کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا، اور اس سے بچوں کو ایک صحت مند ذہنی ماحول میسر آئے گا۔