World
اسرائیل کے امریکہ سے حماس کے ہتھیار پھینکنے کے معاہدے پر تحفظات
اسرائیل نے حماس کے ممکنہ ہتھیار پھینکنے کے معاہدے پر اپنے شدید تحفظات سے امریکہ کو آگاہ کر دیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ غزہ سے فوجیوں کا انخلا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے کی ضمانت نہیں مل جاتی۔
اسرائیل نے واشنگٹن کو حماس کے ساتھ طے پانے والے ممکنہ معاہدے کے حوالے سے اپنے گہرے تحفظات سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ معاملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں امن کے قیام اور غزہ میں جاری کشمکش کو ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر کوششیں تیز کی جا رہی ہیں۔ اسرائیلی حکومت چاہتی ہے کہ امن کے کسی بھی معاہدے سے پہلے حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کیا جائے تاکہ طویل المدتی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اسرائیلی حکام کی جانب سے دوٹوک موقف اختیار کیا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فوجیوں کا مکمل انخلا اس وقت تک عمل میں نہیں لایا جائے گا جب تک حماس کے مکمل اور حقیقی تخفیفِ اسلحہ کی تصدیق نہیں ہو جاتی۔ حکام کا اصرار ہے کہ کسی بھی قسم کی جنگ بندی یا امن کی کوشش میں یہ نکتہ سب سے اوپر ہونا چاہیے کہ عسکریت پسند گروپ کے پاس مزید ہتھیار نہ بچیں۔
دوسری جانب، امریکہ اور دیگر بین الاقوامی شراکت دار خطے میں استحکام کے لیے ایک جامع فریم ورک تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حال ہی میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ اسرائیل غزہ امن منصوبے سے مطمئن ہے، تاہم اس بات پر تاحال ابہام پایا جاتا ہے کہ آیا غزہ سے اسرائیلی فوج کا انخلا پہلے ہوگا یا حماس کی طرف سے ہتھیار ڈالنے کا عمل مقدم رکھا جائے گا۔
یہ صورتحال مشرق وسطیٰ کے بحران کو حل کرنے کی کوششوں میں ایک نیا چیلنج بن کر ابھری ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک فریقین کے درمیان امن معاہدے کی ترتیب اور حماس کے غیر مسلح ہونے کے طریقہ کار پر اتفاق نہیں ہو جاتا، زمینی سطح پر کشمکش میں کمی کے امکانات محدود رہیں گے۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے مطالبات پر ڈٹا ہوا ہے جبکہ بین الاقوامی برادری فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی پر زور دے رہی ہے۔