LIVE
Loading Breaking News...

خیبر میں طورخم بارڈر کی بندش کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

News Image
پاکستان کے ضلع خیبر میں طورخم بارڈر کی طویل بندش کے خلاف مقامی قبائلیوں اور تاجروں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اہم شاہراہ پر دھرنا دینے کی دھمکی دی ہے۔ مظاہرین نے فوری طور پر بارڈر کو دوطرفہ تجارت اور آمدورفت کے لیے کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان کے قبائلی ضلع خیبر میں طورخم بارڈر کی طویل بندش کے خلاف مقامی عوام، تاجروں اور قبائلی عمائدین نے شدید احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ بارڈر کی مسلسل بندش کی وجہ سے روزمرہ کی تجارت اور کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیں، جس سے ہزاروں خاندانوں کی روزی روٹی کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ احتجاجی مظاہرے کے دوران شرکاء نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے کا فوری حل نکالا جائے اور طورخم گزرگاہ کو جلد از جلد دوبارہ کھولا جائے۔ اس احتجاج میں کاروباری برادری اور سرحدی چیمبرز کے نمائندوں نے بھی بھرپور شرکت کی اور پاک افغان دوطرفہ تجارت کی بحالی پر زور دیا۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بارڈر کی طویل بندش نہ صرف مقامی معیشت کو تباہ کر رہی ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت سے وابستہ مزدوروں اور ٹرانسپورٹرز کے لیے بھی شدید مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال کا فوری نوٹس نہ لیا گیا تو وہ مرکزی شاہراہ پر طویل دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ دوسری جانب، سرحدی علاقوں میں کشیدہ صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ اور سکیورٹی ادارے بھی متحرک ہو گئے ہیں اور مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ قبائلی رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ وہ پرامن طریقے سے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں لیکن اگر ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔