Pakistan
پاکستان میں آزاد کشمیر احتجاج کی کوریج کرنے والی ویب سائٹس بلاک
رپورٹس کے مطابق پاکستان کی وزارتِ اطلاعات نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات اور وہاں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی کوریج پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اس دوران معروف عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ پر بھی من گھڑت اور پیلا صحافت کا الزام عائد کرتے ہوئے نشریات کو محدود کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے آزاد جموں و کشمیر (پی او کے) میں ہونے والے حالیہ احتجاجی مظاہروں، کریک ڈاؤن اور انتخابی عمل کی کوریج کرنے والی متعدد ڈیجیٹل نیوز ویب سائٹس تک رسائی کو محدود یا معطل کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مبینہ طور پر حساس علاقائی صورتحال سے متعلق معلومات کی ترسیل کو کنٹرول کرنا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اس پابندی کی زد میں کئی ملکی اور غیر ملکی خبر رساں ادارے بھی آئے ہیں۔
اس تنازع کے دوران پاکستانی وزارتِ اطلاعات نے معروف عالمی نشریاتی ادارے 'الجزیرہ' پر بھی سخت تنقید کی ہے۔ وزارت کا مؤقف ہے کہ الجزیرہ نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات اور وہاں کی زمینی صورتحال کو توڑ مروڑ کر پیش کیا اور پیشہ ورانہ صحافتی اقدار کے برعکس 'پیلا صحافت' (Yellow Journalism) کا سہارا لیا۔ اسی الزام کی بنیاد پر سرکاری سطح پر اس ادارے کے خلاف اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور اس کی کوریج کو ہدف تنقید بنایا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا اور آن لائن خبروں پر اس قسم کی پابندیوں سے معلومات کے آزادانہ بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور پریس فریڈم کے حامی اداروں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاجی تحریکوں کے دوران میڈیا کو سنسر کرنا جمہوری روایات کے منافی ہے۔ دوسری جانب حکومتی حلقوں کا اصرار ہے کہ یہ اقدامات قومی سلامتی اور امن عامہ کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری تھے۔
مستقبل میں اس تنازع کے مزید شدت اختیار کرنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ ڈیجیٹل دور میں خبروں کی ترسیل کو مکمل طور پر روکنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ آزاد کشمیر میں ہونے والے ان مظاہروں اور اس کے نتیجے میں ہونے والے کریک ڈاؤن کی خبریں اب بھی مختلف متبادل ذرائع سے عوام تک پہنچ رہی ہیں، جس سے حکام کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے اثرات محدود ہو رہے ہیں۔