LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا دعویٰ: پیر سے ایران کے ساتھ نئے مذاکرات شروع ہوں گے

News Image
سابق یا موجودہ امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ طے شدہ فضائی حملے منسوخ کرنے کے بعد ایران کے ساتھ نئے مذاکرات کا آغاز آئندہ پیر کے روز سے ہوگا۔ دوسری جانب، ایران نے اس دعویٰ کی تردید کی ہے جبکہ عالمی ذرائع ابلاغ میں اس صورتحال پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔
امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تہران کے ساتھ طے شدہ فضائی حملے آخری وقت پر منسوخ کرنے کے بعد اب ایران کے ساتھ آئندہ پیر کے روز سے نئے مذاکرات کا باضابطہ آغاز کیا جائے گا۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر تھی اور امریکی عسکری حکام کسی بھی ہنگامی کارروائی کے لیے پوری طرح تیار بیٹھے تھے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس پیشرفت کو سفارتی سطح پر ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں دونوں فریقین کے درمیان تناؤ کم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ تاہم، اس حوالے سے تہران کی طرف سے فوری طور پر ردعمل بھی سامنے آیا ہے جہاں ایرانی حکام اور سرکاری ذرائع نے امریکی صدر کے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے کہ پیر سے کوئی نئی بات چیت شروع ہونے جا رہی ہے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ جب تک واشنگتن کی جانب سے جارحانہ رویے اور پابندیوں کا سلسلہ بند نہیں ہوتا، اس قسم کے یکطرفہ دعووں کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس تردید کے بعد عالمی سطح پر سفارتی حلقوں میں ایک بار پھر بے یقینی کی لہر دوڑ گئی ہے کہ آیا دونوں ممالک واقعی کسی مفاہمت کی طرف بڑھ رہے ہیں یا یہ محض سیاسی بیان بازی کا حصہ ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اور دیگر عالمی جریدوں کے مطابق، ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ ٹرمپ نے عین موقع پر حملے صرف اس توقع کے تحت روکے ہیں کہ فریقین جلد ہی کسی منصفانہ یا متوازن معاہدے پر پہنچ سکتے ہیں۔ گارڈین اور سی این بی سی کی رپورٹس میں بھی اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ اگرچہ عسکری تصادم کو فی الحال ٹال دیا گیا ہے، لیکن سیاسی محاذ پر کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ وال اسٹریٹ جریدے نے بھی اپنے اداریے میں اس پیشرفت کو ایک پیچیدہ سفارتی چال قرار دیا ہے جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ کی سیاست پر گہرے مرتب ہوں گے۔ عالمی برادری اور خطے کے دیگر ممالک اس پوری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والا کوئی بھی براہِ راست تصادم یا اس کے برعکس کوئی معاہدہ پوری دنیا بالخصوص توانائی کی منڈیوں کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ آنے والے پیر کے روز اور اس کے بعد کے دنوں میں یہ واضح ہو سکے گا کہ آیا سفارتی دروازے واقعی کھلتے ہیں یا دونوں ممالک کے درمیان تلخیوں کا یہ نیا باب مزید خطرناک موڑ اختیار کرتا ہے۔