World
ایران پر حملے منسوخ: تیل کی قیمتیں گر گئیں اور یورپی مارکیٹیں بحال
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے کا فیصلہ واپس لینے اور سفارتی مذاکرات کی بحالی کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے جس سے یورپی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی زبردست تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا ہے جبکہ یورپ کی اہم اسٹاک مارکیٹوں میں نمایاں تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ معاشی تبدیلیاں اس وقت رونما ہوئیں جب امریکہ کے نو منتخب صدر یا رہنما ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مجوزہ فوجی حملے اچانک منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔ اس اقدام کا مقصد تہران کے ساتھ نئے سرے سے مذاکرات کا آغاز کرنا اور آبنائے ہرمز کو تجارت کے لیے مکمل طور پر کھلا رکھنا ہے۔ مبصرین کے مطابق، اس سفارتی پیش رفت سے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے فوری خطرات ٹل گئے ہیں، جس کے گہرے مثبت اثرات عالمی معیشت پر مرتب ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، حملے کی منسوخی کی خبر سامنے آتے ہی خام تیل کے دام تیزی سے نیچے آئے۔ سرمایہ کاروں اور تجارتی اداروں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے کیونکہ فوجی تصادم کی صورت میں تیل کی سپلائی لائنیں بری طرح متاثر ہو سکتی تھیں اور آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا بھر میں توانائی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔ اب جب کہ سفارت کاری کو ایک اور موقع دیا جا رہا ہے، مارکیٹ میں گھبراہٹ کا ماحول ختم ہو چکا ہے اور تجارتی سرگرمیوں میں استحکام کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
یورپی مارکیٹوں میں بھی اس اعلان کے بعد زبردست جوش و خروش دیکھا گیا اور اہم انڈیکس مثبت زون میں بند ہوئے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے یا باضابطہ مذاکرات کا سلسلہ کامیابی سے آگے بڑھتا ہے، تو اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں مزید مستحکم ہوں گی اور مہنگائی کے شکار یورپی اور ایشیائی ممالک کو بڑی ریلیف ملے گی۔ تاہم، مارکیٹ کے بعض حلقے اب بھی انتہائی محتاط ہیں اور اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ سفارتی عمل کی کامیابی کے لیے فریقین کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
مستقبل کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی عالمی تجارت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اور اس خطے میں کسی بھی قسم کے تنازع کا خاتمہ دنیا بھر کے صارفین کے لیے خوش آئند ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح بین الاقوامی سیاست اور سفارتی بیانات کا ایک ہی جملہ اربوں ڈالر کی عالمی منڈیوں کی سمت کو پلٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تیل کے تاجر اب اگلے چند دنوں میں متوقع سیاسی اور سفارتی بیٹھکوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔