LIVE
Loading Breaking News...

کرسٹوفر نولان کا چینی انٹرویو اور دی اوڈیسی وائرل

News Image
مشہور ہالی ووڈ ہدایت کار کرسٹوفر نولان کا فلمی تنقید اور اپنی آنے والی فلم 'دی اوڈیسی' سے متعلق دیے گئے انٹرویو نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی ہے۔ نولان نے فلمی نقادوں کے رویے اور کہانی سنانے کے روایتی انداز پر کھل کر گفتگو کی۔
ہالی ووڈ کے صف اول کے ہدایت کار کرسٹوفر نولان کا چین میں دیا گیا ایک انٹرویو اس وقت انٹرنیٹ پر شدید بحث کا مرکز بنا ہوا ہے، جس میں انہوں نے فلم 'دی اوڈیسی' اور فلمی تنقید کے حوالے سے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا۔ اس انٹرویو کے وائرل ہونے کے بعد دنیا بھر میں فلمی شائقین اور نقادوں کی جانب سے مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ کرسٹوفر نولان نے اپنے اس انٹرویو میں فلمی نقادوں کی جانب سے کی جانے والی بعض تنقید کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے غیر ضروری قرار دیا۔ نولان کا کہنا تھا کہ آج کل کے دور میں نقاد فلموں میں چھوٹی چھوٹی خامیاں تلاش کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، جو کہ دراصل کہانی سنانے کے بنیادی فلسفے سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق، سنیما محض چند تکنیکی خامیوں یا نکتہ چینی کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک وسیع تر تجربہ ہے جو ناظرین کو جذبات کے سفر پر لے جاتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ 'اوپن ہائیمر' اور ان کی تازہ ترین پروجیکٹ 'دی اوڈیسی' کا بنیادی فلسفہ کس طرح انسانی نفسیات اور کہانی کی گہرائی کے گرد گھومتا ہے۔ اس کے علاوہ، انٹرویو کے دوران نولان نے اشارہ دیا کہ 'دی اوڈیسی' کے بعد ان کا اگلا بڑا فلمی پروجیکٹ کب اور کس شکل میں سامنے آ سکتا ہے۔ ہالی ووڈ کے حلقوں میں ان کے اس بیان کو بڑی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ نولان کی ہر فلم کا شائقین بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔ فلمی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ نولان کا یہ موقف سنیما کی دنیا میں طویل عرصے تک بحث کا موضوع رہے گا، کیونکہ انہوں نے ہالی ووڈ کے روایتی ناقدانہ ماحول پر کھل کر سوالات اٹھائے ہیں۔