LIVE
Loading Breaking News...

بی بی سی ریڈیو کے پریزینٹر ٹونی لائیوسے کا استعفیٰ

News Image
بی بی سی ریڈیو 5 لائیو کے معروف پریزینٹر ٹونی لائیوسے نے سولہ سال وابستگی کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے گزشتہ ماہ اپنے سابق باس ڈیوڈ سلیوان کے خلاف الزامات سامنے آنے کے بعد اپنے شو سے قدم پیچھے ہٹا لیے تھے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی ریڈیو 5 لائیو کے معروف اور سینئر پریزینٹر ٹونی لائیوسے نے سولہ سال طویل وابستگی کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ ٹونی لائیوسے اس ریڈیو چینل کے ایک نمایاں چہرہ مانے جاتے تھے جنہوں نے اپنے کیریئر کے دوران کئی اہم اور مقبول شوز کی میزبانی کی تھی۔ ناظرین اور سامعین کے درمیان ان کی ایک خاص پہچان تھی اور وہ نشریاتی دنیا میں اپنی جاندار میزبانی کی وجہ سے شہرت رکھتے تھے۔ ان کا یہ اچانک فیصلہ میڈیا کے حلقوں میں حیرت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور اسے ادارے کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹونی لائیوسے نے گزشتہ ماہ ہی اپنے شو سے عارضی طور پر قدم پیچھے ہٹا لیے تھے جب ان کے سابق باس ڈیوڈ سلیوان کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات سامنے آئے تھے۔ اس صورتحال کے پیدا ہونے کے بعد انہوں نے اپنے کیریئر اور ادارے کی ساکھ کے پیش نظر یہ قدم اٹھایا۔ ڈیوڈ سلیوان کے معاملے نے برطانوی میڈیا میں کافی ہلچل مچا دی تھی اور اس سے جڑے تمام پہلوؤں پر گہری نظر رکھی جا رہی تھی۔ ٹونی لائیوسے کا اس تنازع کے تناظر میں شو سے کنارہ کش ہونا اور بالآخر استعفیٰ دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ حالات کتنے سنجیدہ رخ اختیار کر چکے تھے۔ بی بی سی کی انتظامیہ نے تاحال اس استعفیٰ پر کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا ہے تاہم یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ ٹونی لائیوسے اب اس ادارے کا مزید حصہ نہیں ہوں گے۔ ان کے جانے سے ریڈیو 5 لائیو کی پروگرامنگ پر بھی اثر پڑنے کا امکان ہے کیونکہ وہ طویل عرصے سے اس نیٹ ورک کے ایک اہم ستون کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ سامعین اور ان کے مداحوں کی جانب سے بھی سوشل میڈیا پر اس خبر پر شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے اور کئی لوگ ان کے اس فیصلے پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں۔ مستقبل کے حوالے سے ٹونی لائیوسے کی جانب سے تاحال کسی نئے منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا ہے اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ وہ اپنے براڈکاسٹنگ کیریئر کا آغاز کسی دوسرے پلیٹ فارم سے کرتے ہیں یا کچھ عرصہ اسکرین سے دور رہتے ہیں۔ میڈیا کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس واقعے نے بی بی سی کے اندرونی ماحول اور انتظامی معاملات پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں جن پر آنے والے دنوں میں مزید بحث ہونے کی توقع ہے۔