World
سکاٹ لینڈ: سولا سگیر جزیرے پر روایتی گُوگا شکار پر پابندی
سکاٹ لینڈ کے جزیرے سولا سگیر پر ہر سال ہونے والے روایتی گانٹ چوزوں کے شکار پر اس بار پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ حکام نے جانوروں کے تحفظ اور اجازت نامے کے مسائل کے باعث اس سالانہ شکار کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔
سکاٹ لینڈ کے غیر آباد ہیبرڈین جزیرے سولا سگیر پر سالانہ روایتی گُوگا شکار کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں مقامی افراد کو اس سال گانٹ (gannet) کے چوزوں کے شکار کی اجازت دینے سے باضابطہ طور پر انکار کر دیا گیا ہے۔ یہ شکار ایک قدیم روایت کا حصہ ہے جس کے دوران ہر سال سینکڑوں کی تعداد میں گانٹ کے چوزوں کو ان کے گوشت کے حصول کے لیے ہلاک کیا جاتا ہے اور اسے مقامی ثقافت کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
حکام کی جانب سے جاری کردہ فیصلوں کے مطابق، اس بار اجازت نامے کے حصول میں پیش آنے والی قانونی پیچیدگیوں اور جنگلی حیات کے تحفظ کے ضوابط کی وجہ سے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ ماہرینِ ماحولیات اور جانوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں کی جانب سے اس روایت پر طویل عرصے سے تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے، جن کا مؤقف ہے کہ اس قسم کے شکار سے بحری پرندوں کی آبادی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب، مقامی افراد اور روایتی شکاری اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ صدیوں پرانی روایت ہے جو جزیرے کی ثقافت اور تاریخی شناخت سے گہری طرح جڑی ہوئی ہے۔ شکاریوں کا مؤقف ہے کہ وہ اس شکار کے دوران سخت ضوابط اور روایتی طریقوں کی پابندی کرتے ہیں تاکہ پرندوں کی مجموعی آبادی کو کسی بڑے نقصان سے بچایا جا سکے، تاہم موجودہ انتظامی رکاوٹوں کے بعد اس سال اس روایت کو جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔