LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں شدید ہیٹ ویو، فلسطینیوں کی مشکلات میں اضافہ

News Image
غزہ میں پڑنے والی شدید گرمی اور ہیٹ ویو نے پہلے سے متاثرہ فلسطینی عوام کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث لوگ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
غزہ کی پٹی میں جاری تنازعہ اور محاصرے کے درمیان اب ایک شدید ہیٹ ویو نے فلسطینی عوام کی مصیبتوں میں مزید خوفناک حد تک اضافہ کر دیا ہے۔ شدید گرمی کے اس دور میں لاکھوں بے گھر افراد کو خیموں اور کھلے آسمان تلے کسمپرسی کی زندگی گزارنا پڑ رہی ہے، جہاں درجہ حرارت انتہائی بلند سطح پر پہنچ چکا ہے۔ بنیادی ڈھیکانچے کی تباہی کے باعث بجلی، پانی اور سایہ دار جگہوں کا حصول ناممکن بن چکا ہے، جس سے انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی اور ہیٹ ویو کے اس عالم میں پانی کی قلت اور حفظان صحت کے اصولوں پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے بیماریاں تیزی سے پھیل سکتی ہیں۔ خاص طور پر بچوں، خواتین اور بزرگوں کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں کیونکہ انہیں نہ تو پینے کا صاف پانی میسر ہے اور نہ ہی گرمی سے بچاؤ کا کوئی مؤثر ذریعہ۔ ہسپتال پہلے ہی ادویات اور بجلی کی کمی کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کو بروقت طبی امداد کی فراہمی میں بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بین الاقوامی امدادی تنظیموں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور غزہ کے عوام کے لیے ہنگامی بنیادوں پر انسانی امداد، پانی اور خیموں کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن زمینی حقائق کے مطابق امدادی سامان کی ترسیل بدستور ناکافی ہے اور عوام شدید گرمی اور مشکلات کے گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ اس ہیٹ ویو نے محاصرہ زدہ علاقے کے باسیوں کی مشکلات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو انسانی المیہ مزید گہرا ہو جائے گا۔