LIVE
Loading Breaking News...

میانمار: قید رہنما آنگ سان سوچی کی پانچ سال میں پہلی غیر ملکی ملاقات

News Image
میانمار کی معزول رہنما آنگ سان سوچی نے فروری 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد پہلی بار کسی غیر ملکی عہدیدار سے ملاقات کی ہے۔ ریڈ کراس کی نمائندہ نے قید خانے میں آنگ سان سوچی سے ملاقات کرکے ان کی خیریت دریافت کی۔
میانمار کی معزول اور قید رہنما آنگ سان سوچی نے فروری 2021 میں ملک میں ہونے والی فوجی بغاوت کے بعد پہلی بار کسی غیر ملکی سرکاری نمائندے سے ملاقات کی ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ ملاقات ریڈ کراس کی ایک نمائندہ کے ساتھ ہوئی ہے، جسے سوچی کی گرفتاری کے بعد سے ان کا پہلا براہ راست اور تصدیق شدہ غیر ملکی رابطہ قرار دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس دورے کا مقصد قید میں موجود افراد کی حالتِ زار کا جائزہ لینا اور انہیں اپنے اہل خانہ سے رابطہ کرنے کی سہولیات فراہم کرنا تھا۔ اس ملاقات کے دوران آنگ سان سوچی کی صحت اور ان کو فراہم کردہ سہولیات کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی، تاہم اس کی مزید تفصیلی معلومات سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ظاہر نہیں کی گئیں۔ یاد رہے کہ نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کو فوج کی جانب سے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد مختلف جھوٹے مقدمات میں سزائیں سنائی گئی تھیں اور وہ طویل عرصے سے سخت تنہائی میں قید ہیں۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں اور اقوام متحدہ مسلسل ان کی رہائی اور ان تک رسائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں تاکہ ان کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ *اس اہم پیش رفت کو بین الاقوامی سطح پر قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے میانمار کے مجموعی سیاسی بحران یا فوجی جنتا کے رویے میں فوری طور پر کسی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ میانمار میں جاری خانہ جنگی اور سیاسی عدم استحکام کے تناظر میں قید رہنماؤں تک رسائی کا یہ واقعہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد واقعہ ہے۔