World
ایران اور عمان کے درمیان آبراهِ ہرمز پر اہم مذاکرات، امریکا سے مذاکرات کی تردید
ایران نے عمان کے ساتھ آبراهِ ہرمز کے حوالے سے مذاکرات کرنے کی تصدیق کی ہے لیکن امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کی نئی بات چیت کے امکان کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کے دعوؤں کے برعکس واشنگٹن کے ساتھ فی الحال کوئی مذاکرات زیرِ غور نہیں ہیں۔
تہران نے حالیہ سفارتی پیش رفت کے دوران اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے عمان کے ساتھ آبراهِ ہرمز کے امور پر تفصیلی بات چیت کی ہے۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی طاقتیں سمبری تجارت کے اس اہم ترین راستے پر امن بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق، عمان کے ساتھ ہونے والی اس گفتگو کا مقصد خطے میں استحکام پیدا کرنا اور تجارتی بحران کو حل کرنا تھا۔ تاہم، تہران کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ اس کا مقصد ہرگز خطے کے حالات کو جنگ سے پہلے کی پوزیشن پر لانا نہیں ہے کیونکہ آبراهِ ہرمز کے حوالے سے اب زمینی حقائق بدل چکے ہیں۔دوسری جانب، ایران نے امریکی صدر کے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ پیر کے روز سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان نئے مذاکرات کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ اور اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی سطح پر براہ راست یا بلاواسطہ بات چیت نہیں ہو رہی ہے۔ انہوں نے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا میں گردش کرنے والی ایسی تمام خبریں حقیقت کے منافی ہیں۔خطے کی حالیہ سیاسی اور عسکری صورتحال نے بین الاقوامی میڈیا اور تجزیہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رکھی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ، سی این این اور دیگر عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، اختتامِ ہفتہ کے دوران بیانات کی جنگ اور متضاد دعوؤں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایک طرف جہاں خطے کے ممالک سفارتی ذرائع سے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہیں تہران کا مؤقف ہے کہ امریکی دباؤ کے تحت کوئی بات چیت ممکن نہیں ہے۔ اس تازہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی کا راستہ تاحال طویل اور دشوار گزار ہے، اور فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان بدستور برقرار ہے۔