LIVE
Loading Breaking News...

کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز پر جھگڑا، تین زخمی

News Image
کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے بہادر آباد میں واقع مرکز پر دو گروپوں کے درمیان ہونے والے شدید جھگڑے اور فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہو گئے۔ اس ناخوشگوار واقعے کے بعد پارٹی اجلاس میں شدید بدانتظامی اور افراتفری پھیل گئی۔
کراچی کے علاقے بہادر آباد میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پی) کے مرکزی دفتر میں جاری ایک اہم اجلاس کے دوران دو حریف گروپوں کے درمیان شدید جھگڑا اور ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ ذرائع کے مطابق صورتحال اس وقت قابو سے باہر ہو گئی جب پارٹی اجلاس میں مختلف امور پر تلخ کلامی شروع ہوئی اور بات ہاتھ پائی تک جا پہنچی۔ اس دوران مبینہ طور پر فائرنگ اور اسٹریٹ برائولز کے واقعات بھی پیش آئے جن کی زد میں آ کر کم از کم تین افراد زخمی ہو گئے۔ اس ناخوشگوار صورتحال نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے اور پارٹی کی اندرونی صفوں میں موجود کشیدگی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ واقعے کے وقت دفتر کے باہر اور اندر موجود میڈیا کے نمائندگان کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ذرائع ابلاغ کے ارکان پر حملے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں جس سے معاملے کی سنگینی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما مصطفیٰ کمال نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کراچی کے ساتھ مبینہ ناانصافیوں کے خلاف سخت احتجاج ریکارڈ کرانے اور سڑکوں پر نکلنے کا اعلان کیا تھا، تاہم اس سے قبل ہی اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے اور اجلاس اکھاڑے کا منظر پیش کرنے لگا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ پارٹی کے اندرونی اتحاد کے لیے ایک بڑا دھماکہ خارجی اشارہ ہے جو آنے والے دنوں میں سیاسی حکمت عملی کو متاثر کر سکتا ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوری طور پر کارروائی کی۔ زخمی ہونے والے افراد کو طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ دوسری جانب، سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ایم کیو ایم پاکستان سندھ اور بالخصوص کراچی کے مسائل پر دیگر سیاسی جماعتوں بالخصوص پیپلز پارٹی کے ساتھ صوبے میں نئے صوبوں کے قیام اور انتظامی امور پر محاذ آرائی میں مصروف ہے، خود پارٹی مرکز میں اس قسم کا خون خرابہ اور انتشار پارٹی کے بیانیے کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت کی جانب سے اس واقعے کے محرکات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف داخلی سطح پر سخت تادیبی کارروائی کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا रहा ہے۔ شہرِ قائد کی سیاست میں اس ہنگامہ آرائی کے بعد ہلچل مچ گئی ہے اور تمام سیاسی جماعتیں اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کارکنان میں بھی اس صورتحال کی وجہ سے شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور قیادت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اندرونی اختلافات کو فوری طور پر ختم کر کے پارٹی کو متحد رکھے۔