LIVE
Loading Breaking News...

عباس عراقچی کے سعودی اور پاکستانی حکام سے خطے کی سکیورٹی پر مذاکرات

News Image
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مشرق وسطیٰ کے جاری بحران اور خطے کی تازہ ترین صورتحال پر سعودی عرب، پاکستان اور عراق کے اعلیٰ حکام سے اہم ٹیلی فونک رابطے کیے ہیں۔ ان ملاقاتوں اور رابطوں کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشمکش کو کم کرنا اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مشرق وسطیٰ میں جاری شدید بحران اور سکیورٹی کی مخدوش صورتحال کے پیش نظر سعودی عرب، پاکستان اور عراق کے اعلیٰ ترین حکام کے ساتھ سلسلہ وار رابطے کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان دو طرفہ اور کثیر جہتی رابطوں کا بنیادی مقصد موجودہ کشیدہ خطے میں امن و امان کی بحالی اور سفارتی ذرائع سے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اس موقع پر خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔ رپورٹس کے مطابق عباس عراقچی نے اپنے سعودی ہم منصب کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں علاقائی پیش رفت اور دو طرفہ تعلقات کے استحکام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ تہران اور ریاض کے درمیان حالیہ مہینوں میں رابطوں میں بہتری آئی ہے، اور دونوں ممالک خطے میں کشیدگی کو ہوا دینے کے بجائے اسے کم کرنے کے خواہاں ہیں۔ اس کے علاوہ، ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے آرمی چیف اور دیگر عراقی حکام سے بھی رابطہ کیا، جس میں سرحدی سلامتی، باہمی دفاعی تعاون اور مشرق وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال پر گفتگو کی گئی۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشمکش نے پورے خطے کو ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے، اور بین الاقوامی برادری بھی اس بحران کے حل کے لیے کوشاں ہے۔ ایران کی جانب سے ان سفارتی کوششوں کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ تہران خطے کے اہم دارالحکومتوں کے ساتھ رابطے استوار کر کے اپنے خلاف ممکنہ سفارتی یا عسکری دباؤ کو متوازن کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب جیسے ممالک کا اس معاملے میں کردار انتہائی حساس اور اہم ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ان رابطوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے اور تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ قریبی رابطے جاری رکھے گا۔ آنے والے دنوں میں خطے کے ان رہنماؤں کے درمیان مزید اعلیٰ سطحی ملاقاتیں بھی متوقع ہیں تاکہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی چنگاریوں کو روکا جا سکے اور ایک جامع سفارتی فریم ورک کے تحت مسائل کا پرامن حل نکالا جا سکے۔