LIVE
Loading Breaking News...

ڈاؤ فیوچرز میں 600 پوائنٹس اضافہ، تیل کی قیمتیں سستی

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ حملے منسوخ کیے جانے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ اس جغرافیائی سیاسی پیش رفت کے بعد سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے جس سے ڈاؤ جونز انڈیکس میں چھ سو پوائنٹس کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں اس وقت خوشگوار ہلچل دیکھنے میں آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے متوقع عسکری کارروائیوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس اہم سیاسی فیصلے کے فوراً بعد وال اسٹریٹ پر ڈاؤ جونز انڈیکس کے فیوچرز میں چھ سو پوائنٹس سے زائد کا شاندار اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام نے سرمایہ کاروں کے اندر پائے جانے والے شدید جغرافیائی سیاسی خدشات کو کافی حد تک کم کر دیا ہے جس کی وجہ سے حصص بازاروں میں خرید و فروخت کا رجحان مثبت ہو گیا ہے۔ دوسری جانب، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کی توقعات کے اثرات براہ راست توانائی کی عالمی منڈی پر بھی مرتب ہوئے۔ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور امن کی نئی امیدوں کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی۔ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی فروخت میں تیزی آئی ہے کیونکہ تاجروں کو اب رسد میں کسی بڑی رکاوٹ کا خطرہ کم نظر آ رہا ہے۔ توانائی کے شعبے میں اس کمی کو افراط زر کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مالیاتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسٹاک اور بانڈز دونوں مارکیٹوں میں بیک وقت بہتری اس بات کا ثبوت ہے کہ سرمایہ کار تنازع کے پرامن حل پر زیادہ بھروسہ کر رہے ہیں۔ سی این بی سی اور بلومبرگ کی رپورٹس کے مطابق اس پوری صورتحال میں امریکی صدر کے بیانات نے مارکیٹ کو سنبھالا دینے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ تیل کی منڈی بدستور ان پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کر رہی ہے۔ جاپانی ین سمیت دیگر محفوظ کرنسیوں میں بھی اس تبدیلی کے بعد معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں اقتصادی ماہرین کی نظریں مشرق وسطیٰ کی تازہ ترین صورتحال اور امریکی اقتصادی پالیسیوں پر مرکوز رہیں گی۔ اگرچہ مارکیٹ نے فی الحال راحت کا سانس لیا ہے اور اسٹاک انڈیکس اوپر گئے ہیں، تاہم عالمی تجارت سے وابستہ افراد کسی بھی غیر متوقع موڑ سے نمٹنے کے لیے محتاط حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں۔ اس وقت مجموعی طور پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوتا دکھائی دے رہا ہے جس سے کاروباری سرگرمیوں میں بہتری کی امید پیدا ہو گئی ہے۔