World
یورپ میں خشک سالی، دریائے رائن کی سطح ریکارڈ کم ترین سطح پر
یورپ میں شدید خشک سالی کی وجہ سے دریائے رائن سمیت کئی اہم دریاؤں میں پانی کی سطح انتہائی کم ہو گئی ہے۔ اس صورتحال نے خطے میں تجارتی نقل و حمل اور بجلی کی پیداوار کو شدید متاثر کیا ہے۔
یورپ بھر میں جاری شدید خشک سالی کے نتیجے میں براعظم کے اہم ترین آبی گزرگاہوں میں پانی کی سطح ریکارڈ حد تک گر گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق دریائے رائن کے علاوہ دریائے ڈینیوب اور دریائے پو میں بھی پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک کم ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے پورے خطے میں اقتصادی اور صنعتی سرگرمیاں شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ پانی کی اس کمی نے نہ صرف نقل و حمل کے نظام کو درہم برہم کر دیا ہے بلکہ توانائی کی پیداوار کو بھی زبردست نقصان پہنچایا ہے۔
دریائے رائن جو کہ وسطی یورپ کی معیشت اور تجارت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اس کی سطح میں گراوٹ کی وجہ سے بڑے بحری جہازوں کی آمدورفت ناممکن ہو گئی ہے۔ صنعتیں اپنے خام مال اور تیار شدہ مصنوعات کی ترسیل کے متبادل ذرائع تلاش کرنے پر مجبور ہیں جو کہ روایتی آبی راستوں کے مقابلے میں کافی مہنگے اور سست ہیں۔ اس صورتحال نے سپلائی چین کو شدید متاثر کیا ہے اور کاروباری اداروں کو اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ پانی کی کم سطح نے پن بجلی (ہائیڈرو پاور) کی پیداوار کو بھی بری طرح گھٹا دیا ہے۔ توانائی کے بحران کے اس دور میں جب یورپ پہلے ہی مختلف چیلنجز سے نبردآزما ہے، دریاؤں کے بہاؤ میں کمی نے بجلی کی فراہمی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ماحولیاتی تبدیلیوں کے گہرے اثرات کا منہ بولتا ثبوت ہے، جس سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی اور پائیدار حکمت عملی مرتب کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
حکومتی ادارے اور متعلقہ حکام اس بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات پر غور کر رہے ہیں تاکہ معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ تاہم، جب تک بارشوں کا کوئی نیا سلسلہ شروع نہیں ہوتا اور موسمی حالات میں بہتری نہیں آتی، دریائے رائن اور دیگر دریاؤں پر منڈلا رہے یہ خطرات برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔