LIVE
Loading Breaking News...

مشرق وسطیٰ میں آئل ٹینکرز کو شدید خطرات، تجزیہ کاروں کی تشویش

News Image
متبادل بحری راستوں پر حالیہ حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں تیل بردار جہازوں کو انتہائی پیچیدہ صورتحال کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ خطرات موجودہ بحران کے دوران اپنی بلند ترین سطح پر ہیں۔
مشرق وسطیٰ کے سمندری راستوں اور خاص طور پر تیل کی ترسیل کرنے والے ٹینکرز کو اس وقت انتہائی سنگین سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی دفاعی اور توانائی کے امور کے تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ متبادل بحری راستوں پر ہونے والے تازہ ترین حملوں نے صورتحال کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں تیل کی سپلائی لائنیں شدید خطرے کی زد میں ہیں۔ ماہرین کے مطابق، ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ آئل ٹینکرز کے لیے خطرات اتنے زیادہ اور پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ اس بحران کی وجہ سے عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کے نظام میں شدید خلل پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تیل بردار جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے عارضی طور پر نئے اور طویل متبادل راستے اختیار کیے جا رہے تھے، لیکن حالیہ حملوں نے ان متبادل گزرگاہوں کو بھی غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ اس صورتحال نے جہاز رانی کمپنیوں اور عالمی بیمہ کاروں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جو ٹینکرز پر بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد پریمیم کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر رہے ہیں۔ توانائی کے منڈیوں پر اس کے منفی اثرات نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ اگر اس بحران پر فوری قابو نہ پایا گیا اور بحری سکیورٹی کے موثر انتظامات نہ کیے گئے، تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی رس رسد بری طرح متاثر ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ سکتا ہے۔ متعلقہ بین الاقوامی ادارے اور علاقائی طاقتیں اس بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کرنے پر غور کر رہی ہیں، تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کے بہاؤ کو ممکنہ تباہی سے بچایا جا سکے۔