LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل اور یورپی انتہائی دائیں بازو کی جانب سے سیوتا کے واقعے کا استحصال

News Image
اسرائیل اور یورپی انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں ہجرت کے مسئلے کو یہود دشمنی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس بیانیے کا مقصد بنیادی طور پر فلسطین کے حق میں اٹھنے والی یکجہتی کی آوازوں کو کمزور کرنا ہے۔
حالیہ دنوں میں بین الاقوامی سطح پر ایک نیا اور خطرناک بیانیہ ابھر کر سامنے آ رہا ہے جس کے تحت ہجرت کے مسائل کو یہود دشمنی کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد فلسطین کے حق میں دنیا بھر میں اٹھنے والی یکجہتی کی لہر کو کمزور کرنا اور اس کی ساکھ کو مجروح کرنا ہے۔ مبصرین کے مطابق، اس سازش کے پیچھے اسرائیل اور یورپی ممالک کے انتہائی دائیں بازو کے سیاسی عناصر کا گٹھ جوڑ کارفرما ہے جو اس بحران کا سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ سیوتا کے واقعے اور اس کے بعد رونما ہونے والے حالات کو بھی اسی وسیع تر سیاسی ایجنڈے کے تحت استعمال کیا گیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں مہاجرین کے بحران کو اپنے مقاصد کے لیے توڑ مروڑ کر پیش کر رہی ہیں تاکہ عوام کی توجہ اصل انسانی المیے سے ہٹا کر ایک مخصوص سیاسی نظریے کی طرف مبذول کروائی جا سکے۔ اس عمل میں پروپیگنڈا کا شدید سہارا لیا جا رہا ہے تاکہ یہ تاثر دیا جا सके کہ فلسطینی یکجہتی کی تحریکیں معاشرتی امن کے لیے خطرہ ہیں۔ فلسطینی حقوق کے حامیوں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس بیانیے کو سختی سے رد کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ ہجرت کے عالمی مسئلے اور یہود دشمنی کے عناصر کو فلسطین کی حمایت کے ساتھ جوڑنا ایک سوچی سمجھی چال ہے جس کا مقصد اسرائیل پر تنقید کو روکنا ہے۔ اس طرح کے ہتھکنڈوں کا مقصد نہ صرف سچائی کو چھپانا ہے بلکہ دنیا بھر میں مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والی اخلاقی اور سیاسی یکجہتی کو مجروح کرنا بھی ہے۔ مستقبل کے حوالے سے یہ صورتحال دنیا بھر کے انسانی حقوق کے کارکنوں اور سیاسی تجزیہ کاروں کے لیے تشویشناک ہے۔ اگر اس پروپیگنڈے کا مؤثر جواب نہ دیا گیا تو یہ نہ صرف مہاجرین کے لیے مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بنے گا بلکہ دنیا بھر میں منصفانہ آوازوں کو دبانے کا سبب بھی بنے گا۔ عالمی برادری کو اس قسم کے سازشی بیانیوں سے ہوشیار رہنے اور حقائق کی بنیاد پر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔