Technology
آسٹریلیا میں سوشل میڈیا کی پابندی کیوں ناکام ہو رہی ہے؟
آسٹریلیا کے انٹرنیٹ ریگولیٹر کی جانب سے کی جانے والی ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نوعمر بچے پابندی کے باوجود سوشل میڈیا کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس صورتحال نے ملک میں نافذ کردہ قوانین اور ان کے مؤثر نفاذ پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔
آسٹریلیا میں نوعمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر لگائی جانے والی پابندی بظاہر کارگر ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ ملک کے انٹرنیٹ ریگولیٹر کی جانب سے حال ہی میں جاری کی جانے والی ایک تفصیلی تحقیق میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے سخت اقدامات اور قوانین کے باوجود کم عمر افراد اب بھی مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی حاصل کرنے اور انہیں استعمال کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔
اس تحقیق کے نتائج نے حکومتی حلقوں اور ماہرینِ تعلیم کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ حکومت نے نوجوانی کی عمر میں سوشل میڈیا کے منفی اثرات، ذہنی صحت کے مسائل اور آن لائن ہراسانی سے بچانے کے لیے یہ پابندی عائد کی تھی تاکہ کم عمر صارفین کو محفوظ رکھا جا سکے، تاہم عملی میدان میں اس قانون کا نفاذ تکنیکی خامیوں اور بچوں کی جانب سے نت نئے طریقوں کے استعمال کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں کسی بھی سختی یا پابندی کو مکمل طور پر نافذ کرنا انتہائی پیچیدہ عمل ہے۔ نوعمر صارفین ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (VPNs) اور دیگر متبادل طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے ریگولیٹری سسٹمز کو چکمہ دے رہے ہیں، جس کی وجہ سے یہ پابندی کاغذ پر تو موجود ہے لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
انگلینڈ اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں ڈیجیٹل سیفٹی کے قوانین پر طویل عرصے سے بحث جاری ہے۔ اب جبکہ یہ نئی تحقیق سامنے آ چکی ہے، امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آسٹریلوی حکومت اور متعلقہ ادارے اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کریں گے اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر مزید دباؤ بڑھائیں گے تاکہ کم عمر افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے زیادہ مؤثر اور فول پروف میکانزم تیار کیا جا سکے۔