World
پینٹاگون کی جانب سے پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائلوں کی پیداوار میں بڑا اضافہ
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے اپنے دفاعی ذخائر کو درپیش دباؤ کو کم کرنے کے لیے پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائل انٹرسیپٹرز کی پیداوار میں نمایاں تیزی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کے تحت معروف دفاعی کمپنیوں کو اربوں ڈالر کے نئے معاہدے جاری کیے گئے ہیں تاکہ ہتھیاروں کے ذخائر کو جلد از جلد پورا کیا جا سکے جدید ترین ٹیکنالوجی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
واشنگٹن (نیکسورا نیوز اردو) امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے اپنے دفاعی ذخائر کو درپیش شدید دباؤ کے پیش نظر پیٹریاٹ (Patriot) اور تھاڈ (THAAD) میزائل انٹرسیپٹرز کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کرنے کا باضابطہ فیصلہ کیا ہے۔ دنیا بھر میں بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز کے باعث امریکی فوج کے پاس موجود جدید میزائلوں کے ذخائر میں کمی واقع ہو رہی تھی، جس سے نمٹنے کے لیے اب ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں پینٹاگون کی جانب سے امریکہ کی معروف ترین دفاعی ساز و سامان تیار کرنے والی کمپنیوں لاک ہیڈ مارٹن اور نارتھروپ گرومین کے ساتھ اربوں ڈالر کے نئے اور بڑے معاہدے طے پائے ہیں تاکہ پیداواری صلاحیت کو کئی گنا بڑھایا جا سکے۔
حالیہ برسوں میں دنیا کے مختلف خطوں بالخصوص مشرق وسطیٰ اور مشرقی یورپ میں تنازعات کے دوران فضائی دفاعی نظاموں کا استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔ پیٹریاٹ اور تھاڈ جیسے جدید ترین میزائل شکن سسٹمز نے دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے، جس کی وجہ سے ان انٹرسیپٹرز کی طلب میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے ان میزائلوں کے اندھا دھند استعمال اور یوکرین اور دیگر اتحادی ممالک کو ان کی فراہمی کے نتیجے میں امریکی دفاعی ذخائر میں تیزی سے کمی واقع ہوئی تھی، جس پر پینٹاگون کے اعلیٰ حکام اور کانگریس نے شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔
نئے معاہدوں کے تحت لاک ہیڈ مارٹن اور نارتھروپ گرومین اپنی فیکٹریوں میں صنعتی پیداوار کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے جدید مشینری اور اضافی افرادی قوت کا استعمال کریں گی۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف امریکی فوج کے اپنے جنگی ذخائر کو جلد از جلد مطلوبہ سطح تک بحال کرنا ہے بلکہ مستقبل کے کسی بھی ممکنہ بڑے بحران سے نمٹنے کے لیے تیاری کو بھی فول پروف بنانا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اربوں ڈالر کے معاہدوں سے امریکی دفاعی صنعت کو ایک نیا تحریک ملے گی اور سپلائی چین میں حائل رکاوٹیں بھی دور ہوں گی۔
امریکہ کا یہ قدم اس بات کا عکاس ہے کہ جدید جنگی حالات میں روایتی فوج کے ساتھ ساتھ میزائل شکن اور دفاعی ٹیکنالوجی کی برتری کتنی اہم ہو چکی ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دفاعی تیاریوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اتحادی ممالک کے ساتھ سکیورٹی تعاون کو جاری رکھتے ہوئے اپنے ملک کے دفاع کو بھی ناقابل تسخیر بنایا جائے گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے چند مہینوں میں ان نئے پیداواری اہداف کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو جائیں گے اور میزائلوں کی فراہمی میں تیزی آئے گی۔