World
روس یوکرین جنگ: شدید حملوں میں دس سے زائد افراد جاں بحق
روس اور یوکرین کے درمیان جاری شدید حملوں کے نتیجے میں دس سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ جنگ پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہے اور اس میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازعہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے جہاں دونوں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے علاقوں پر شدید میزائل اور ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں۔ حالیہ فضائی اور زمینی حملوں کے نتیجے میں دونوں جانب دس سے زائد افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جبکہ درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اس تازہ ترین لہر نے خطے میں ایک بار پھر خوف و ہراس کی فضا قائم کر دی ہے اور شہری آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ جنگ اب اپنے پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہے اور زمینی حقائق کے مطابق تنازعہ تھمنے کے بجائے مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور سفارتی حلقے اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی کوئی سنجیدہ کوشش سامنے نہیں آ رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ فریقین کی جانب سے جنگ بندی کے بجائے عسکری طاقت کے استعمال کو ترجیح دی جا رہی ہے جس کی وجہ سے عام شہریوں کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ دوسری جانب متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں جہاں ریسکیو ادارے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ کئی حملے براہ راست رہائشی عمارتوں اور تنصیبات پر ہوئے ہیں۔ عالمی رہنماؤں نے ایک بار پھر فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے، تاہم زمینی صورتحال تاحال انتہائی کشیدہ بنی ہوئی ہے۔