Pakistan
بلاول بھٹو کا وفاقی حکومت کو انتباہ اور آزاد کشمیر انتخابات پر ردعمل
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مظفرآباد میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے خلاف سخت وارننگ جاری کی ہے۔ انہوں نے آزاد کشمیر کے مبینہ دھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف تحریک تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مظفرآباد میں آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے تناظر میں ایک پرجوش اور پرزور عوامی جلسے سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے وفاقی حکومت کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت کا الٹی گرام باقاعدہ طور پر شروع ہو چکا ہے اور وہ عوام کے بنیادی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور عوام کے مینڈیٹ کو چرائے جانے کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پارٹی اپنی چوری شدہ نشستیں ہر قیمت پر واپس لے کر رہے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی اس ناانصافی کے خلاف خاموش نہیں بیٹھے گی بلکہ جمہوریت اور عوامی حقوق کی بحالی کے لیے اپنی جدوجہد کو مزید تیز کرے گی۔ انہوں نے کارکنوں کو متحرک کرتے ہوئے کہا کہ دس اگست کو باغ کے مقام پر ایک تاریخ ساز جلسہ منعقد کیا جائے گا، جہاں آئندہ کے لائحہ عمل کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پارٹی قیادت اور کارکنان اس تحریک میں پوری قوت کے ساتھ میدان میں اتریں گے اور عوام کو ان کا حق دلوانے کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ آزاد کشمیر کے عوام نے ہمیشہ جمہوریت اور قانون کی بالاادتری کا ساتھ دیا ہے، لیکن بدقسمتی سے انتخابی عمل میں مبینہ مداخلت کے ذریعے عوامی فیصلوں کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ مشکل ترین حالات میں بھی جمہوریت کی علمبرداری کی ہے اور موجودہ حالات میں بھی وہ عوام کی آواز بن کر سامنے آئے گی۔ انہوں نے اپنے جیالوں کو متحد رہنے اور آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی تاکہ حکومت پر حقیقی دباؤ ڈالا جا سکے۔
اپنے خطاب کے آخر میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ان کی جماعت کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ ملک اور خطے میں آئین اور قانون کی اصل روح کو بحال کرنا ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی کارکنوں اور عوام کو دعوت دی کہ وہ دس اگست کو باغ میں ہونے والے پاور شو میں بھرپور شرکت کریں اور ثابت کریں کہ کشمیر کے غیور عوام اپنے جمہوری حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اس جلسے کے بعد خطے میں سیاسی سرگرمیاں مزید تیز ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔