LIVE
Loading Breaking News...

رانا ثناء اللہ کا محسن نقوی کے بیان پر ردعمل، انتظامی یونٹس پر اظہارِ خیال

News Image
وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے محسن نقوی کے بیانات کا کوئی منطقی جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئین صوبے بنانے کے عمل کی واضح وضاحت کرتا ہے اور اس پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہئے۔
وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر سینیٹر رانا ثناء اللہ نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ یا دیگر شخصیات کی جانب سے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے دیے جانے والے ریمارکس کا اس وقت کوئی معقول جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک کے آئین اور قانون میں نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنانے کا ایک مکمل اور واضح طریقہ کار موجود ہے، اور اس معاملے کو کسی بھی ذاتی رائے کی بنیاد پر نہیں بلکہ آئینی تقاضوں کے تحت ہی آگے بڑھایا جا सकता ہے۔ سینیٹر رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات کو ذاتی آراء کے طور پر دیکھا جانا چاہئے جن کا سرکاری پالیسی یا زمینی حقائق سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔ رانا ثناء اللہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک میں کسی بھی قسم کی انتظامی اصلاحات یا نئے یونٹس کی تشکیل کے عمل سے پہلے پارلیمنٹ کو اس پر سنجیدہ اور تفصیلی بحث کرنی چاہئے۔ ان کا ماننا ہے کہ ملک کو درپیش موجودہ سیاسی اور معاشی چیلنجز کے پیش نظر اداروں اور سیاسی قیادت کو محتاط رویہ اپنانے کی ضرورت ہے، تاکہ کسی بھی قسم کے غیر ضروری تنازعات یا ابہام کو جنم نہ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ ہی وہ واحد اور اعلیٰ ترین فورم ہے جہاں ملک کے انتظامی ڈھانچے میں کسی بھی بڑی تبدیلی یا بہتری کے حوالے سے فیصلہ سازی کی جا سکتی ہے اور تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو اس عمل میں اعتماد میں لیا جانا چاہئے۔ دوسری جانب سیاسی حلقوں میں محسن نقوی کے حالیہ ریمارکس پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے، تاہم حکومتی اتحادی جماعتوں اور مشیران کی جانب سے اس معاملے پر کھل کر اظہار خیال کرنے سے سیاسی گلی کوچوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق رانا ثناء اللہ کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت کے اندر اہم معاملات پر مشاورت اور پالیسی کی سطح پر بعض امور پر آراء مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن حتمی فیصلے آئینی حدود اور پارلیمانی طریقہ کار کے مطابق ہی کیے جائیں گے۔ آخر میں، سینیٹر رانا ثناء اللہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ملک میں استحکام اور ترقی کے لئے ضروری ہے کہ تمام ادارے اپنے آئینی دائرہ کار میں رہ کر کام کریں اور ایسے بیانات سے گریز کیا جائے جو عوام میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا کرتے ہوں۔ انہوں نے میڈیا کے نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی بنیادی توجہ اس وقت معاشی بہتری، مہنگائی پر قابو پانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے پر مرکوز ہے، اور اس قسم کے انتظامی مباحث کو فی الحال مناسب فورم پر ہی زیر بحث لایا جانا چاہئے۔